تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 35
اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ﴿35﴾
- اَمْ اَنْزَلْنَاکیا ہم نے نازل کی
- عَلَيْهِمْان پر
- سُلْطٰنًاکوئی سند
- فَهُوَ يَتَكَلَّمُکہ وہ بتلاتی ہے
- بِمَاوہ جو
- كَانُوْاہیں
- بِهٖاس کے ساتھ
- يُشْرِكُوْنَشریک کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل اتاری ہے جو ان چیزوں کی شہادت دے رہی ہے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اما نزلنا علیھم سلطنا فھو یتکلم بما کانوا بہ یشرکون (35)
ہم پیچھے اس اسلوب کی وضاحت کرچکے ہیں کہ اس قسم کے سوالیہ جملوں میں کلام کا ایک ٹکڑا حذف ہوجاتا ہے جس کی خانہ پری متکلم کا لب و لہجہ کردیتا ہے۔ اس حذب کو کھول دیجئے تو مطلب یہ ہوگا کہ ان نادانوں نے یونہی خدا کے شریک بنا رکھے ہیں یا ہم نے کوئی دلیل اتاری ہے جو ان کے شریکوں کے شریک خدا ہونے کی شہادت دے رہی ہو ! ! اس اسلوب کلام میں طنز و تحقیر اور غیظ و غضب سب جمع ہوجاتا ہے۔ آخری گروپ کی سورتوں میں اس کی نہایت بلیغ مثالیں آئیں گی۔
ان آیات میں توحید کی ایک نہایت اہم نفسیاتی دلیل کی طرف توجہ دلائی گئی۔ وہ یہ کہ جب انسانیت پر حقیقی افتقارا اور بےبسی کی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ تمام دوسرے اسباب و وسائل اور خود تراشیدہ معبودوں کو چھوڑ کر پوری انابت کے ساتھ اپنے رب حقیقی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی اصل فطرت کے اندر ایک خدا کے سوا کسی اور کے لئے کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ لیکن جب افتقار کی حالت ختم ہوجاتی ہے تو پھر وہ انہی گمراہیوں میں کھو جاتا ہے جن میں وہ اس سے پہلے کھویا ہوا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شرک کا اصلی سبب انسان کی غفلت ہے۔ یہ غفلت جب قدرت کی کسی تنبیہ سے دور ہوجاتی ہے تو اس کو اصل حقیقت نظر آجاتی ہے لیکن جب حالات بدل جاتے ہیں تو اس کی سابق غفلت پھر عود کر آتی ہے۔