Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 36

  1. وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ﴿36﴾

    1. وَاِذَآاور جب
    2. اَذَقْنَاہم چکھائیں
    3. النَّاسَلوگ
    4. رَحْمَةًرحمت
    5. فَرِحُوْا بِهَا ۭتو وہ خوش ہوں اس سے
    6. وَاِنْاور اگر
    7. تُصِبْهُمْپہنچے انہیں
    8. سَيِّئَةٌۢکوئی برائی
    9. بِمَااس کے سبب جو
    10. قَدَّمَتْآگے بھیجا
    11. اَيْدِيْهِمْان کے ہاتھ
    12. اِذَا هُمْناگہاں وہ
    13. يَقْنَطُوْنَمایوس ہوجاتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ہم لوگوں کو رحمت سے شادکام کرتے ہیں تو وہ اس پر اترانے لگتے ہیں اور اگر ان کے اعمال کے سبب سے ان کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ فوراً مایوس ہوجاتے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واذا اذقنا الناس رحمتہ فرحوابھا ط وان تصبھم سیئۃ بما قدمت ایدیھم اذا ھم یقنطون (36) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو جب لوگوں کو اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے رب کے شکر گزار ہوں اور اگر ان کو ان کے اعمال سے کے نتیجے میں کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے تو یہ چاہتا ہے کہ وہ اس آزمائش پر صبر کری لیکن بہت تھورے لوگ ایسے نکلتے ہیں جو نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر کریں۔ زیادہ لوگ ایسے ہی نکلتے ہیں جو نعمت پاتے ہیں تو فخر کرتے ہیں اور اکڑتے ہیں اور اگر کسی آزمائش میں بڑتے ہیں تو دل شکستہ اور مایوس ہو کے رہ جاتے ہیں۔ یہ باتیں سب عام الفاظ میں ارشاد ہوئی ہیں اس لئے کہ عام حالت درحقیقت یہی ہے لیکن ان آیات کے نزول کے وقت ظاہر ہے کہ ان کا اشارہ قریش کی طرف تھا اور اس طرح در پردہ ان کو متنبہ فرمایا گیا کہ آج تو خدا کی بخشی ہوئی نعمت پر اسی کے آگے اکڑتے ہو لیکن لیکن کل کو اگر کسی پکڑ میں آگئے تو رؤد اور چلائو گے۔ اس آیت کے الفاظ بما قدمت ایدھیم سے یہ بات نکلتی ہے کہ لوگوں کو اگر کوئی بری افتاد اس دنیا میں پیش آتی ہے تو ان کے برے اعمال کے نتیجے میں پیش آتی ہے۔ جہاں تک بروں کا تعلق ہے سنت الٰہی یہی ہے جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے لیکن اس دنیا میں نیکیوں، یہاں تک کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو بھی بڑی بڑی آزمائشیں پیش آئی ہیں۔ اس قسم کی آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی اس سنت ابتلاء کے تحت پیش آتی ہیں جو اس کے تمام بندوں کے لئے عام ہیں، خواہ وہ نیک ہوں یا بد۔ ان کا تعلق ضروری نہیں کہ آدمی کے اعمال ہی سے ہو بلکہ اکثر حالات میں مجرد اللہ تعالیٰ کی حکمت تربیت ان کی متصفی ہوتی ہے۔