Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 40

  1. اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ع﴿40﴾

    1. اَللّٰهُ الَّذِيْاللہ ہے جس نے
    2. خَلَقَكُمْپیدا کیا تمہیں
    3. ثُمَّ رَزَقَكُمْپھر اس نے تمہیں رزق دیا
    4. ثُمَّ يُمِيْتُكُمْپھر وہ تمہیں موت دیتا ہے
    5. ثُمَّپھر
    6. يُحْيِيْكُمْ ۭوہ تمہیں زندہ کرے گا
    7. هَلْکیا
    8. مِنْسے
    9. شُرَكَآئِكُمْتمہارے شریک (جمع)
    10. مَّنْجو
    11. يَّفْعَلُکرے
    12. مِنْ ذٰلِكُمْان (کاموں ) میں سے
    13. مِّنْ شَيْءٍ ۭکچھ بھی
    14. سُبْحٰنَهٗوہ پاک ہے
    15. وَتَعٰلٰىاور برتر
    16. عَمَّااس سے جو
    17. يُشْرِكُوْنَوہ شریک ٹھہراتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم کو روزی دی، پھر تم کو موت دیتا ہے، پھر تم کو زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے شریکوں میں سے بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کوئی کام کرتا ہو ! وہ پاک ہے اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
6۔ آگے کا مضمون۔ آیات 40۔ 60 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں پیغمبر ﷺ کے مخالفین کو دھمکی دی گئی ہے کہ انہوں نے دین فطرت کی دونوں بنیادیں۔ توحید اور ہمدردی خلق۔ ڈھادی ہیں اور اس طرح پورے نظام معاشرت و تمدن کو بگاڑ کر خدا کی زمین کو فساد سے بھر دیا ہے۔ اس چیز نے ان کو مستحق بنا دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کسی گرفت میں آئیں تاکہ وہ اپنے اس فساد فی الارض کا کچھ مزا چکھیں، پھر مسلمانوں کو غلبہ و نصرت کی بشارت دی گئی ہے اور اس کائنات کے شواہد سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کسی پر نازل کرنا چاہتا ہے تو اپنے تصرف غیبی سے ناسازگار حالات کو بھی سازگار بنا دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ پیغمبر و اور آپ کے صحابہ ؓ کو دین فطرت پر جمے رہنے کی تاکید اور ان لوگوں سے بےپروا ہونے کی ہدایت فرمائی گئی جو بالکل اندھے بہرے بن چکے ہیں۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 7۔ الفاط کی تحقیق اور آیات کی وضاحت اللہ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ط ھل من شرکائکم من یفعل من ذلکم من شئی ط سحمنہ و تعلی عم یشرکون (40) مجوسیوں کے وقتی غلبہ کو دلیل بنا کر قریش نے مسلمانوں کے غلبہ اور توحید و قیامت ہر چیز کو مشکوک بنانے کی جو مہم چلائی اس کی تردید پیچھے کی آیات میں تفصیل سے ہوچکی ہے۔ اب یہ قریش کو براہ راست دھمکی دی جا رہی ہے کہ اس قسم کی طفل تسلیوں سے اپنے کو بہلانے کو کوشش نہ کرو بلکہ حقاء کا مواجہہ کرو۔ تم نے اپنے اعمال سے جو فساد اپنے چاروں طرف جمع کرلیا ہے اس کے نتائج کے ظہور کا وقت اب سر پر آگیا ہے اور تمہارے یہ فرضی دیوی دیوتا اس سے تمہیں بچا نہ سکیں گے۔ یہ آیت اسی دھمکی کی تمہید ہے۔ فرمایا کہ تم کو پیدا تو خدا نے کیا، روزی وہ دیتا ہے۔ موت کے اس اختیار میں ہے، بھر تم کو زندہ وہ کرے گا۔ تم ان کاموں میں سے کسی ایک کام کے متعلق بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ وہ تمہارے ان دیوتائوں کے ہاتھوں انجام پاتا ہے یا وہ اس میں اللہ کا ہاتھ بٹاتے ہیں تو آخر ان کے بل پر تم کب تک جیو گے اور اگر تم خدا کو پکڑ میں آگئے تو یہ تمہارے کیا کام آئیں گے ؟ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔ اوپر کی بات تو ان کو خطاب کرکے فرمائی ہے اور یہ بات ان سے منہ پھیر کر فرمائی ہے۔ ان دونوں اسلوبوں کی بلاغت پر ہم مختلف مقامات میں گفتگو کرچکے ہیں۔