تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 41
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿41﴾
- ظَهَرَظاہر ہوگیا
- الْفَسَادُفساد
- فِي الْبَرِّخشکی میں
- وَالْبَحْرِاور دریا (تری)
- بِمَااس سے جو
- كَسَبَتْکمایا
- اَيْدِي النَّاسِلوگوں کے ہاتھ
- لِيُذِيْقَهُمْتاکہ وہ انہیں (مزہ) چکھائے
- بَعْضَبعض
- الَّذِيْ عَمِلُوْاانہوں نے کیا (اعمال)
- لَعَلَّهُمْشاید وہ
- يَرْجِعُوْنَباز آجائیں وہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
خشکی اور تری ہر جگہ لوگوں کے اعمال کے نتیجے میں فساد چھا گیا ہے تاکہ اللہ ان کی بعض کرتوتوں کا مزہ چکھائے تاکہ یہ رجوع کریں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون (41)
جس طرح روز و شب اور صبح و شام وغیرہ کے الفاظ احاطہ پر دلیل ہوتے ہیں اسی طرح بردبحر کے الفاظ بھی اس طرح کے سیاق میں صرف احاطہ پر دلیل ہوتے ہیں۔ مدعا یہ ظاہر کرنا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے پر خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اعتقادی ہو یا عملی فساد طاری ہوچکا ہے۔ فکر و نظر کی صحت کا انحصار تمام تر اللہ تعالیٰ کیا ایمان پر ہے اور عمل کی ساری استقامت اسلام پر مبنی ہے اور یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کا بھی انہدام دوسرے کے انہدام کو متلزم ہے اور جب یہ دونوں منہدم ہوجائیں تو انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں فساد لازماً مستولی ہو کے رہے گا۔ اگر ان دونوں کے انہدام کے باوجود کہیں زندگی کی چمک دمک نظر آتی ہے تو وہ بالکل عارضی چیز ہے اور جو لوگ اس کو کچھ اہمیت دیتے ہیں وہ فریبِ نظر میں مبتلا ہیں۔
لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون۔ یہ نتیجہ بیان ہوا ہے اس صورت حال کا …یعنی جب لوگ اپنے اعمال سے اس طرح زندگی کے ہر شعبہ کو فساد سے بھر دیتے ہیں تو وہ گویا زبان حال سے اللہ تعالیٰ کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ ان کی کرتوتوں کو کچھ مزہ ان کو چکھائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا کچھ مزا چکھاتا ہے اور مقصود اس سے ان کو متنبہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور غلط روی سے باز آکر زندگی کی صحیح شاہراہ کی طرف مڑیں۔
یہاں یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ رسولوں کی قوموں پر دو قسم کے عذاب آئے ہیں۔ اول تنبہی پھر فیصلہ کن۔ یہاں قریش کو پہلے قسم کے عذاب سے ڈرایا ہے کہ تم نے اپنے اعمال سے اپنے آپ کو ایک تنبہی عذاب کا مستحق بنا لیا ہے لیکن یادر رکھو کہ اگر وہ عذاب آگیا اور تم نے اپنی روش نہ بدلی تو پھر وہ عذاب بھی آجائے گا جو تمہاری کمر توڑ کے رکھ دے گا۔