تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 43
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ﴿43﴾
- فَاَقِمْپس سیدھا رکھو
- وَجْهَكَاپنا چہرہ
- لِلدِّيْنِ الْقَيِّمِدین راست کے لیے (طرف)
- مِنْ قَبْلِاس سے قبل
- اَنْکہ
- يَّاْتِيَآجائے
- يَوْمٌوہ دن
- لَّا مَرَدَّٹلنا نہیں
- لَهٗاس کے لیے وہ
- مِنَ اللّٰهِاللہ سے
- يَوْمَئِذٍاس دن
- يَّصَّدَّعُوْنَجدا جدا ہوجائیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اپنا رخ دین قیم کی طرف سیدھا رکھو۔ قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے ایک ایسا دن آجائے جس کے لئے پھر واپسی نہیں ہے۔ اس دن وہ جدا جدا ہوجائیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فاقھم وجھک للدین القبیم من قبل ان یاتی یوم لا مردلہ من اللہ یومئذ یصدعون (43)
یہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی طرف اس قسم کا التفات ہے جس قسم کا التفات اوپر آیت 31 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ہٹ دھرم اور شامت زدہ لوگ نہیں سنتے تو ان کی پروانہ کرو بلکہ تم خدا کے سیدھے اور فطری دین کی طرف یکسو ہوجائو اور اس دن کی مسئولیت سے بچنے کی فکر کرو جس کا آنا قطعی ہے، اور جب وہ دن خدا کی طرف سے ظہور میں آئے گا تو کسی کی طاقت نہیں ہوگی کہ اس کو لوٹا سکے۔ ’ یومئذ یصدعون۔ ‘ یعنی آج تو ان لوگوں کو اپنے شرکاء شفعا پر بھی اعتماد ہے اور اپنی جمعیت پر بھی ناز ہے لیکن اس دن سب متفرق ہوجائیں گے، کوئی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔ آیت 14 میں لفظ یتفرقون آیا ہے، یہاں یصدعون ہ۔