تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 30. Ar-Room · Ayah 43

  1. فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ﴿43﴾

    1. فَاَقِمْپس سیدھا رکھو
    2. وَجْهَكَاپنا چہرہ
    3. لِلدِّيْنِ الْقَيِّمِدین راست کے لیے (طرف)
    4. مِنْ قَبْلِاس سے قبل
    5. اَنْکہ
    6. يَّاْتِيَآجائے
    7. يَوْمٌوہ دن
    8. لَّا مَرَدَّٹلنا نہیں
    9. لَهٗاس کے لیے وہ
    10. مِنَ اللّٰهِاللہ سے
    11. يَوْمَئِذٍاس دن
    12. يَّصَّدَّعُوْنَجدا جدا ہوجائیں گے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اللہ کے دین میں مستحکم ہوجاؤ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ۔ اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہوچکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی جماعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ لوگ اپنے کئے ہوئے نیک اعمال بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش وخرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کرکے دے رہا ہوگا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کرکے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔