تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 50
فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿50﴾
- فَانْظُرْپس دیکھ تو
- اِلٰٓىطرف
- اٰثٰرِآثار
- رَحْمَتِ اللّٰهِاللہ کی رحمت
- كَيْفَ يُحْىِوہ کیسے زندہ کرتا ہے
- الْاَرْضَزمین
- بَعْدَ مَوْتِهَا ۭاس کے مرنے کے بعد
- اِنَّبیشک
- ذٰلِكَوہی
- لَمُحْيِالبتہ زندہ کرنے والا
- الْمَوْتٰى ۚمردے
- وَهُوَاور وہ
- عَلٰيپر
- كُلِّ شَيْءٍہر شے
- قَدِيْرٌقدرت رکھنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس رحمت الٰہی کے آثار کو دیکھو، وہ کس طرح زمین کو زندہ کردیتا ہے اس کے مردہ ہوجانے کے بعد ! بیشک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فانظرالی اثر رحمت اللہ کیف یحی الارض بعد موتھا، ان ذلک لمحی الموتی وھو علی کل شیء قدیر (50)
قیامت کا یہ ذکر مسلمانوں کی تسلی ہی کے ضمن میں ہے۔ اہلِ ایمان کی تمام امیدوں کا مرجع چونکہ آخرت ہی ہے اس وجہ سے اوپر کی آیات میں اس دنیا کے اندر ان کی کامیابی کے آثار کی طرف اشارہ کرنے کے بعد آکرت کی رحمت کے ظہور کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ جس طرح زمین میں اس کی رحمت کے آثار دیکھتے ہو کہ وہ اس کے خشک ہوجانے کے بعد اس کو دوبارہ باغ و بہار کردیتا ہے اسی طرح وہ دوبارہ مردوں کو بھی زندہ کردے گا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کفار آخرت کو جو جھٹلاتے اور اس کو محض تمہارا خواب و خیال قرار دیتے ہیں۔ تم ان کو ابو الفجولیوں کی پروانہ کرو۔ خدا کیہ عظیم رحمت ظاہر ہو کر رہے گی اور تمہارے یہ حریف اس دن اپنی بدبختی و محرومی پر اپن سر پیٹیں گے۔ یہ حقیقت قرآن سے واضح ہے کہ قیامت دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کا مقتضیٰ ہے اور اس کا اصل مقصد اہل ایمان کو ان کی جانبازیوں کا صلہ دینا ہے۔ سورة انعام کی آیت 12 کتب علی نفسہ الرحمہ لیجمعنکم الی یوم القیمۃ لاریب فیہ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں، اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔