تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 8
اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ﴿8﴾
- اَوَکیا
- لَمْ يَتَفَكَّرُوْاوہ غور نہیں کرتے
- فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ۣاپنے جی (دل) میں
- مَانہیں
- خَلَقَپیدا کیا
- اللّٰهُاللہ
- السَّمٰوٰتِآسمانوں
- وَالْاَرْضَاور زمین
- وَمَااور جو
- بَيْنَهُمَآان دونوں کے درمیان
- اِلَّامگر
- بِالْحَقِّدرست تدبیر کے ساتھ
- وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭاور ایک مقررہ میعاد
- وَاِنَّاور بیشک
- كَثِيْرًااکثر
- مِّنَ النَّاسِلوگوں سے
- بِلِقَآئِملاقات سے
- رَبِّهِمْاپنا رب
- لَكٰفِرُوْنَمنکر ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا ! اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے نہیں پیدا کیا ہے مگر غایت و حکمت اور ایک مدت مقرر کے ساتھ۔ اور لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اولم یتفکروا فی انفسھم، ما خلق اللہ السموات والارض وما بینھا الا بالحق ماجل مسمی ط وان کثیرام الناس بلقاء ربھم للکفرون (8)
اس آیت میں اور آگے کے چند آیات میں اسی حقیقت کی تائید میں، جو اوپر بیان ہوئی، آفاق کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ خود اپنے باطن میں اتر کو غور کرتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، ان میں سے کسی چیز کو بھی بےغایت و مقصد، محض کھیل تماشے کے طور پر، نہیں بنایا ہے بلکہ ہر چیز ایک غایب و مقصد اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ بندھی ہوئی پیدا ہوئی ہے۔ تو جب اس کائنات کی ہر چیز اپنے اندر ایک غایت و حکمت رکتھی ہے اور اس کے لئے ایک مدت بھی مقرر ہے تو یہ کس طرح باور کیا جاسکتا ہے کہ انسان جو اس کے اندر، واضح طور پر، ایک برتر مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے، بالکل بےمقصد اور عبث پیدا کیا گیا ہو۔ اس چیز کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک روز جزا و سزا آئے جس میں وہ اپنے اعمال کے بابت مسئول ہو، اپنی نیکیوں کا صلہ پائے اگر اس نے نیکیاں کی ہوں اور اپنی بدیوں کی سزا بھگتے اگر اس نے بدیاں کمائی ہوں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ کارخانہ کائنات ایک کھلنڈرے کا کھیل اور انسان ایک شتر بےمہارا اور بےغایت و مقصد وجود بن کے رہ جاتا ہے اور یہ بات اس کائنات کی اس مقصدیت اور حکمت کے بالکل منافی ہے جس کی شہادت اس کے ہر گوشہ سے مل رہی ہے۔ یہی مضمون دوسری جگہ اس طرح بیان ہوا ہے ’ ویتفکرون فے خلق السموات ولارض ط ربنا ما خلقت ھذا باطلا، سجنک ربنا عذاب النار (اور وہ آسمانوں اور زمین کی خلقت میں غور کرتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارا رب ! تو نے یہ کارخانہ عبث نہیں پیدا کیا۔ تیری ذات پاک ہے تو ہمیں عذاب نار سے بچائیو !) اولم یتفکرو فی انفسھم ‘ کے الفاظ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ آسمان و زمین کی خلقت کی یہ حکمت ان لوگوں پر کھلتی ہے جو بالکل غیر جانبدار ہو کر اپنے باطن میں غوطہ لگارے اور اصل حقیقت کو پانا چاہتے ہیں۔ رہے وہ جو محض دوسروں کے اندھے مقلد یا حقیقت کو جھٹلانے کے لئے معجزات اور نشانیوں کے طالب اور مناظرہ و مجادلہ کے لئے آستینیں چڑھائے رہتے ہیں وہ اس سے محروم ہی رہتے ہیں۔
’ وان کثیر من الناس بلقائی ربھم لکفرون ! یعنی ہے تو یہ حقیقت بالکل واضح لیکن اس کے باوجود بہت سے نادان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف کھانے پینے اور عیش کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور اسی طرح ایک دن ختم ہوجائیں گے۔ ان کے لئے خدا کے آگے پیشی کا کوئی دن آنا نہیں ہے۔