تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 7
یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ﴿7﴾
- يَعْلَمُوْنَوہ جانتے ہیں
- ظَاهِرًاظاہر کو
- مِّنَسے
- الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ښدنیا کی زندگی
- وَهُمْاور وہ
- عَنِسے
- الْاٰخِرَةِآخرت
- هُمْوہ
- غٰفِلُوْنَغافل ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ اس دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ بالکل ہی بیخبر ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا و وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (7)
اوپر والی آیات میں ان ظاہر پرستوں کے جس اندھے پن کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ اس کی توجیہ ہے کہ اول تو یہ لوگ اس دنیا کے صرف ظاہر حالات کو دیکھتے ہیں، ان کے باطن تک ان کی نگاہ نہیں پہنچتی کہ اصل متصرف اس کے اندر کون ہے اور اس کی صفات کیا ہیں اس وجہ سے یہ ان کے لئے ایک کھیل تماشا بن کر رہ گئی ہے، دوسرے یہ آخرت سے بالکل غافل ہیں اور جب یہ آخرت سے غافل ہیں تو آخرت کے بغیر اس کارخانہ کائنات کو مبنی عدل و حکمت تصّور کرنا ناممکن ہے۔ وھم من الاخرۃ ھم غفلون میں مبتدا کا اعادہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اس حقیقت کو زور تاکید کے ساتھ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ آخرت سے اصلی غافل یہی لوگ ہیں۔ اس تاکید کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین عرب اگرچہ آخرت کا صاف الفاظ میں انکار نہیں کرتے تھے لیکن انہوں نے شرک و شفاعت کا ایک ایسا نظام کھڑا کر رکھا تھا کہ آخرت ان کے لئے ایک بالکل بےحقیقت چیز بن کر رہ گئی تھی۔ قرآن یہاں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کوئی یہ نہ گمان کرے کہ یہ لوگ آخرت کو کسی درجے میں بھی مانتے ہیں۔ اصلی حقیقت یہ ہے کہ آخرت سے یہ لوگ بالکل ہی بیخبر ہیں۔