تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 9
اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ﴿9﴾
- اَوَکیا
- لَمْ يَسِيْرُوْاانہوں نے سیر نہیں کی
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- فَيَنْظُرُوْاجو وہ دیکھتے
- كَيْفَ كَانَکیسا ہوا
- عَاقِبَةُانجام
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- مِنْ قَبْلِهِمْ ۭان سے پہلے
- كَانُوْٓاوہ تھے
- اَشَدَّبہت زیادہ
- مِنْهُمْان سے
- قُوَّةًقوت میں
- وَّاَثَارُوااور انہوں نے بویا جاتا
- الْاَرْضَزمین
- وَعَمَرُوْهَآاور انہوں نے اس کو آباد کیا
- اَكْثَرَزیادہ
- مِمَّااس سے جو
- عَمَرُوْهَاانہوں نے اسے آباد کیا
- وَجَآءَتْهُمْاور ان کے پاس آئے
- رُسُلُهُمْان کے رسول
- بِالْبَيِّنٰتِ ۭروشن دلائل کے ساتھ
- فَمَا كَانَپس نہ تھا
- اللّٰهُاللہ
- لِيَظْلِمَهُمْکہ ان پر ظلم کرتا
- وَلٰكِنْاور لیکن
- كَانُوْٓاوہ تھے
- اَنْفُسَهُمْاپنی جانیں
- يَظْلِمُوْنَظلم کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جوان سے پہلے تھے۔ وہ ان سے قوت میں زیادہ اور زمین کو زرخیز بنانے اور آباد کرنے میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھے اور ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیا لے کر آئے۔ پس اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اولم یسروا فی الارض ینظرو اکیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم ط کانواشد منھم قوۃ واثما روا الارض و عمر و ھا اکثر مما عمروھا وجاء تھم وسلھم بالبینت، فما کان اللہ لیطلمھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون ثم کان عاقبۃ الذین اساء والسوای ان کذبوا بایت اللہ وکانو بھا یستھزون (9۔ 10)
یہ اسی حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے تاریخ کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اپنے ہی ملک کے آثار اور اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ جو قومیں اپنی عسکری قوت میں ان سے کہیں بڑ چڑھ کر اور تمدنی و تعمیری صلاحیتوں میں ان سے کہیں آگے تھیں، ان کا انجام کیا ہوچکا ہے ! شارہ قوم عاد، ثمود، قوم مدین وغیرہ کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں تفصیل کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بیان ہوچکی ہیں۔ فرمایا کہ ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن انہوں نے اپنی آنکھیں اس طرح بند رکھیں کہ وہ کسی نشانی سے بھی نہ کھیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کو عذاب میں پکڑا اور ان کا عذاب میں پکڑا جانا ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہوا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اس لئے کہ انہوں نے اس انداز کی کوئی قدر نہیں کی جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اہتمام فرمایا بلکہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور نہایت جسارت کے ساتھ ان کا مذاق اڑاتے رہے…مطلب یہ ہے کہ قریش قوموں کی اس تاریخ پر غور کریں کہ اس سے کیا بات ثابت ہوتی ہے ؟ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے، جس میں ہر شخص اپنے زور میں جو چاہے کرتا پھرے۔ کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہے، یا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ قوموں کے ساتھ اپنے قانون عدل و حکمت کے مطابق معاملہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہی دوسری بات ثابت ہوتی ہے اور پھر اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن بھی آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ ایک ایک فرد کا محاسبہ کرے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جز ایا سزا دے گا۔