Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 12

  1. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴿12﴾

    1. وَلَقَدْ اٰتَيْنَااور البتہ ہم نے دی
    2. لُقْمٰنَلقمان
    3. الْحِكْمَةَحکمت
    4. اَنِکہ
    5. اشْكُرْتم شکر کرو
    6. لِلّٰهِ ۭاللہ کا
    7. وَمَنْاور جو
    8. يَّشْكُرْشکر کرتا ہے
    9. فَاِنَّمَاتو اس کے سوا نہیں (صرف)
    10. يَشْكُرُوہ شکر کرتا ہے
    11. لِنَفْسِهٖ ۚاپنے لیے
    12. وَمَنْ كَفَرَاور جس نے ناشکری کی
    13. فَاِنَّ اللّٰهَتو بیشک اللہ
    14. غَنِيٌّبےنیاز
    15. حَمِيْدٌتعریفوں کے ساتھ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کے شکر گزار رہو اور جو شکر گزار رہے گا تو اپنے ہی لیے رہے گا۔ اور جو ناشکری کرے گا تو اللہ بےنیاز و ستودہ صفات ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 12۔ 19 آگے لقمان کی حکمت اور ان کی ان حکیمانہ نصیحتوں کا حوالہ ہے جو انہوں نے اپنے سعادتمند فرزند کو فرمائی ہیں ور ان کے حوالے سے مقصود۔ جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا، اہل عرب کے سامنے خود ان کے حکماء اور ان کی حکمت کو پیش کرکے یہ دکھانا ہے کہ تمہارے اندر جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی حکمت و معرفت میں سے کچھ حصہ ملا انہوں نے بھی اپنے متعلقین کو انہی باتوں کی تعلیم دی جنکی تعلیم تم کو یہ پر حکمت کتاب دے رہی ہے، لیکن یہ تمہاری بدبختی و محرومی یہ کہ تم اپنے آبائو اجداد کی اندھی تقلید پر تو بہت نازاں ہو، جنہوں نے بےسوچے سمجھے شیطان کی پیروی کی لیکن اپنے ان اسلاف کی حکمت سے تم نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جنہوں نے زندگی کے حقائق پر سنجیدگی سے غور کیا اور اپنے قول و عمل سے اپنے بعد والوں کے لئے نہایت پاکیزہ روایات چھوڑیں۔ اس بےخردی کا نتیجہ تمہارے سامنے یہ آیا کہ جن باتوں کی لقمان اپنے فرزند کو نہایت دردمندی کے ساتھ تعلیم دیتے تھے انہی باتوں سے آج تم اپنی اولاد کو روکنے کے لئے نہایت ظالمانہ سزائیں دیتے ہو۔ یہ لقمان کون تھے ؟ بعض لوگوں نے ان کو حبشی النسل قرار دیا ہے لیکن یہ بات ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ محمد بن اسحاق نے ان کا نسب سیدنا ابراہیم ؑ سے ملایا ہے۔ لیکن یہ بات بھی صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ شعرائے جاہلیت میں سے طرفہ بن عبد اور سلمیٰ بن ربیعہ نے اپنے شعروں میں ان کا اور ان کے قبیلہ کا ذکر کیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یمن میں ان کو اور ان کی قوم کو بڑی شان و شوکت حاصل تھی اور یہ قوم عاد کے بقایا میں سے تھے۔ بعض لوگوں نے ان کو نبی قرار دیا ہے لیکن مذہب جمہوریہ ہے کہ یہ نبی نہیں بلکہ ایک حکیم تھے۔ عرب کے لٹریچر سے بھی اسی بات کی تائید ہوتی ہے اور قرآن نے بھی ان کا ذکر ایک حکیم ہی کی حیثیت سے کیا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ بعض شعراء نے اپنے شعروں میں ان کی اس نصیحت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جس کا حوالہ قرآن نے دیا ہے لیکن دمِ تحریر میرے پاس حوالہ کی کتابیں نہیں ہیں اس وجہ سے میں اس باتب میں کوئی بات وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا۔ بعض مورخین نے ان کو بادشاہ مانا ہے۔ بادشاہ نہ سہی لیکن ان کو سرداری کا منصب ضرور حاصل تھا۔ شعرائے جاہلیت نے جس انداز سے ان کا ذکر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو یمن میں اپنے قبیلہ پر ایک پدر سرانہ قسم کی سرداری حاصل تھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں فرمائی ہیں۔ ان سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ نصحیتیں اس کو سرداری کی ذمہ داریاں سونپتے وقت کی ہیں۔ آگے اس کی وضاحت آئے گی…اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ولقد اتینا لقمن الحکمۃ ان اشکر اللہ ومن یشکرفانما یشکر لنفہ ومن کفرفان اللہ غنی حمید (12) حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے۔ اللہ اپنے جس بندے کو اس دولت سے بہرہ مند کرتا ہے اس کا اولین اثر جو اس پر مترتب ہوتا ہے وہ یہی یہ کہ وہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے، اور یہی شکر تمام حقوق اللہ اور تمام حقوق العباد کی معرفت کی بنیاد ہے۔ سورة فاتحہ کی تفسیر میں ہم اس پر مفصل گفتگو کرچکے ہیں۔ حضرت دائود، ؑ حضرت سلیمان ؑ اور ذوالقرنین کے واقعات کے سلسلہ میں بھی اس حقیقت کی طرف مفید اشارات گزر چکے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کے صاحب حکمت اور حکیم ہونے کی اولین شناخت یہ ہے کہ اس کے اندر اپنے رب کی شکر گزاری ہو۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو وہ بالکل کھوکھلا ہے، اگرچہ وہ علم و فلسفہ کا کتنا ہی بڑا ماہر اور امام کیوں نہ سمجھا جاتا ہو۔ ومن یشکر فانما یشکر لنفسہ ومن کفرفان اللہ غنی حمید۔ یہ برسر موقع ایک دفع دخل مقتدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہ گمان کرے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں سے اپنی شکر گزاری کو جو مطالبہ کیا ہے یا اس کو جو اس نے پسند فرمایا ہے تو اس میں اس کا کوئی نفع ہے بلکہ اس کو اس نے بندوں ہی کے نفع کے لئے پسند فرمایا ہے۔ جو شخص خدا کا شکر گزار رہتا ہے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے لئے اللہ کی نعمتوں کو بڑھاتا ہے۔ رہا اللہ کا معاملہ تو وہ ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ نہ کسی کی شکر گزاری سے اس کو کوئی نفع پہنچتا اور نہ کسی کی ناشکری سے کوئی نقصان۔ ساتھ ہی وہ حمید بھی ہے یعنی تمام اعلیٰ صفات سے متصف اور یہ تمام صفات اس کی ذاتی ہیں۔ نہ ان میں کوئی اضافہ کرسکتا، نہ کمی۔ اس کی اس صفت ہی کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ خواہ کوئی اس کے احسانات کی قدر کرے یا ناقدری لیکن اس دنیا میں اپنے رزق وفضل سے وہ کسی کو بھی محروم نہیں کرتا۔ آگے آیت 26 میں بھی انہی صفات کا حوالہ آرہا ہے، وہاں مزید وضاحت ہوجائے گی۔