تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 13
وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ﴿13﴾
- وَاِذْاور جب
- قَالَکہا
- لُقْمٰنُلقمان
- لِابْنِهٖاپنے بیٹے کو
- وَهُوَاور وہ
- يَعِظُهٗاسے نصیحت کر رہا تھا
- يٰبُنَيَّاے میرے بیٹے
- لَا تُشْرِكْتو نہ شریک ٹھہرا
- بِاللّٰهِاللہ کے ساتھ
- اِنَّ الشِّرْكَبیشک شرک
- لَظُلْمٌ عَظِيْمٌالبتہ ظلم عظیم
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یاد کرو جب کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے اس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے بیٹے ! اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیو۔ بیشک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واذقال لقمن لابنہ وھو یعظہ یبنی لا تشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم (13)
جس طرح حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے اسی طرح شکر کی اصل روح شرک سے اجتناب ہے۔ بندے کو تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی سے ملتی ہیں اس وجہ سے جس طرح اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے اسی طرح یہ بھی واجب ہے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرے۔ دوسروں سے اگر بندے کو کوئی نفع پہنچتا ہے تو وہ اللہ ہی کے حکم سے پہنچتا ہے اس وجہ سے شکر کا اصل سزا وار اللہ ہی ہے۔ دوسروں کا حق اللہ تعالیٰ کے حق کے تحت ہے۔ اللہ کا حق سب سے بڑا ہے اگر کوئی شخص خدا کے حق میں دوسروں کو شریک کرتا ہے تو وہ سب سے بڑے حق کو تلف کرن والا بنتا ہے جو ایک ظلم عظیم ہے۔
یہاں یہ امر بھی توجہ کے لائق ہے کہ لقمان نے یہ باتیں اس وقت کہی ہیں جب وہ بیٹے کی نصیحت کر رہے تھے۔ اس سے موقع اور بات دونوں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی سرسری بات نہیں ہے ج راہ چلتے کہہ دی گئی ہو بلکہ لقمان نے خاص اپنے بیٹے کو، ایک اہم موقع پر، خاص اہتمام کے ساتھ، بطور ایک موعظت کے بتائیں اور ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کی تاکید کی۔ اس سے مقصود قرآن کے مخاطبوں کو توجہ دلانا ہے کہ ایک دانش مند باپ اپنے بیٹے کو کیا تعلیم دیتا تھا اور آج اس کے احمق نام لیوا اپنی اولاد کے ساتھ کیا معاملہ کر رہے ہیں !