Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 14

  1. وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ﴿14﴾

    1. وَوَصَّيْنَااور ہم نے تاکید کردی
    2. الْاِنْسَانَانسان
    3. بِوَالِدَيْهِ ۚاس کے ماں باپ کے بارہ میں
    4. حَمَلَتْهُاسے پیٹ میں رکھا
    5. اُمُّهٗاس کی ماں
    6. وَهْنًاکمزوری
    7. عَلٰي وَهْنٍپر کمزوری
    8. وَّفِصٰلُهٗاور اس کا دودھ چھڑانا
    9. فِيْ عَامَيْنِدو سال میں
    10. اَنِ اشْكُرْ لِيْکہ تو میرا شکر کر
    11. وَلِوَالِدَيْكَ ۭاور اپنے ماں باپ کا
    12. اِلَيَّمیری طرف
    13. الْمَصِيْرُلوٹ کر آنا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے معاملے میں ہدایت کی۔ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ جھیل کر اس کو پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا۔ کہ میرے شکر گزار رہو اور اپنے والدین کے۔ میری ہی طرف بالاآخر لوٹنا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ووصینا الانسان بوالدیہ ج حملتہ امہ وھنا علی وھن و فضلہ فی عا میر ان اشکرلی ولوالدیک الی المصیرا وان جاھدک علی ان تشرک بی ما لیس لک بااعلم فلا تطعھما وصا حبھما فی الدنیا معروفا فاتبع سبیل من اناب الی ثم الی مرجعکم فالبئکم بما کنتم تعملون (14۔ 15) یہ دو آیتیں لقمان کی موعظت کے بیچ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین ہیں۔ لقمان نے بیٹے کو خد کی شکر گزاری کا حق ادا کرنے کی تاکید تو فرمائی لیکن اللہ تعالیٰ جل شانہ کے حق کے پہلو بہ پہلو اپنے حق کا ذکر انہوں نے ادب کے خلاف تصور فرمایا اس وجہ سے اس کو نظر انداز کرکے قیامت کے ذکر کی طرف بڑھ گئے۔ یہ بات انہوں نے ادباً کی اور ان کی تواضع کے شایانِ شان بات یہی تھی، لیکن خدا کے حق کے بعد فطرت کی تربیت میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لقمان کے اس چھوڑے ہوئے خلا کو اپنی طرف سے بھر دیا۔ فرمایا کہ ہم نے انسان کو اس کے والدین کے باب میں ہدایت کی۔ اس ہدایت کا ذکر عنکبوت آیت 8 میں بھی گزر چکا ہے اور سورة نبی اسرائیل میں بھی۔ وہاں ہم نے واضح کیا ہے کہ خدا کے حق کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم تمام انبیائے کرام اور تمام آسمانی صحیفوں نے بالاتفاق دی ہے۔ یہاں اس ہدایت کی تفصیل آگے والے ٹکڑے سے ہوگئی ہے کہ ان اشکرلی ولوالدیک (کہ میرا شکر گزارورہ اور اپنے ماں باپ کا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی شکر گزاری کے ساتھ انسان کو اس کے والدین کی شکر گزاری کی ہدایت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اوپر خدا کے بعد سب سے بڑا حق اس کے والدین کا ہے اس لئے کہ وہی اس کے وجود میں آن اور پرورش پانے کا ذریعہ بنتے ہیں، والدین سے بڑا کسی کا حق بھی نہیں ہے، لیکن یہ حق شکر گزاری اور خدمت کا ہے نہ کر عبادت کا۔ شکر کا مفہوم اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں اس کی اصل حقیقت ایفائے حق ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو مجرد زبان سے شکر ایک بالکل بےحقیقت چیز یہ۔ ’ وان جاھدک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ‘۔ یعنی اگر والدین اس بات کے لئے اولاد پر دبائوڈالیں کہ وہ کسی چیز کو بےدلیل خدا کا شریک بنائے تو یہ حق ان کو حاصل نہیں ہے، اولاد کا فرض ہے کہ اس معاملے میں ان کی اطاعت سے صاف انکار کر دے۔ شرک کے بےدلیل ہونے پر اس کتاب میں ہم جگہ جگہ بحث کرچکے ہیں۔ یہ اس کی متصل صفت ہے اس لئے کہ اب تک شرک کی تائید میں اس کے حامی کوئی دلیل پیش نہیں کرسکے، جب کہ خدا کا حال یہ ہے کہ ہر مشرک اس کو لازماً تسلیم کرتا ہے۔ ’ وصاحبھما فی الدنیا ‘ یعنی اگر والدین شرک اختیار کرنے کے لے زور لگائیں تو اس معاملے میں تو ان کی اطاعت نہ کی جائے لیکن جہاں تک دنیا کا معاملہ ہے اس کے اندر ان کے ساتھ حسن ِ سلوک دستور کے مطابق باقی رکھا جائے۔ ان کی ضروریات حتی الامکان پوری کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کی ہدایت کے لئے برابر دعا بھی کی جائے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس وقت تک اپنے باپ کے لئے دعا جاری رکھی جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اس سے روک نہیں دیا گیا۔ کافر والدین سے بیٹے کے لئے کلی انقطاع صرف اس شکل میں صحیح ہیجب مسلم معاشرہ جماعتی حیثیت سے ان سے اور ان کی قوم سے براءت کا اعلان کردے۔ اس کی وضاحت سورة برا ئت میں ہوچکی ہے۔ یہاں ایک چیز یہ بھی قابل غور ہے کہ جہاں تک شکر گزاری اور خدمت کا تعلق ہے اس کی ہدایت تو باپ اور ماں دونوں کے لئے فرمائی ہے لیکن قربانیں اور جانفشانیاں صرف ماں کی گنائی ہیں، باپ کی کسی قربانی کا حوالہ نہیں دیا ہے۔ فرمایا ہے حملتہ امہ وھناعلی وھن وفصالہ فی عامین ‘ (اس کی ماں نے اس کو اٹھایا دکھ کے بعد دکھ جھیل کر اور پھر اس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سالوں کے اندر)۔ یہاں حمل، ولادت اور رضاعت تینوں مراحل کی طرف اشارہ ہے (اگرچہ ولادت کا ذکر غایت و ضاحت کے سبب سے مخدوف ہے) اور ان تینوں ہی کا تعلق ماں سے ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں کا حق باپ کے مقابل میں زیادہ ہے۔ اسی پر وہ حدیث مبنی ہے جس میں نبی ﷺ نے مان کا حق باپ کے مقابل میں تین درجہ زیادہ قرار دیا ہے۔ ’ الی المصیر ‘ میں تنبیہ ہے کہ یہ بات ہر شخص کو یاد رکھنی چاہیے کہ بالآخر سب کو میری ہی طرف پلٹنا یہ۔ اگر کسی نے میری شکر گزاری اور والدین کے حق میں کوتاہی کی تو وہمیر باز پرس سے نہیں چھوٹ سکتا۔ ’ واتبع سبیل من اناب الی ثم الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون۔ شرک کے معاملے میں والدین کی اطاعت نہ کرنے کی ہدایت کے ساتھ یہ اولاد کو تاکید مزید ہے کہ اسے بہرحال انہی لوگوں کی پیروی کرنی ہے جو خدا کی طرف متوجہ ہیں، ان لوگوں کی راہ نہیں اختیار کرنی چاہیے جو خدا سے منحرف ہیں اگرچہ وہ اس کے والدین ہی کیوں نہ ہوں۔ سورة عنکبوت میں والدین کا قول نقل ہوچکا ہے کہ وہ اپنی اولاد اور اپنے زیر دستوں سے کہتے ہیں کہ اتبعوا سبیلنا ولنحمل خطیکم۔ 12 (تم ہمارے طریقے کی پیروی کرتے رہو، ہم تمہاری غلطیوں کو بوجھ اٹھانے کے ذمہ دار ہیں) یہاں اسی قول پر تعریض کرتے ہوئے فرمایا کہ جو بھی خدا کے خلاف کسی راستہ کی پیروی کی دعوت دے اس کی پیروی جائز نہیں ہے۔ پیروی صرف ان لوگوں کی کرنی ہے جو خدا کی راہ پر ہیں۔ ثم الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون۔ یہ خطاب والدین اور اولاد دنوں سے یکساں ہے اور اسمی تنبیہ بھی ہے اور اطمینان دہانی بھی۔ مطلب یہ ہے کہ ایک دن سب کی واپسی میری ہی طرف ہونی ہے اور اس دن جو کچھ جس نے کیا ہوگا میں اس کے سامنے رکھ دوں گا۔ اگر کسی کے والدین نے میرے بخشے ہوئے حق سے غلط فائدہ اٹھا کر اولاد کو مجھ سے منحرف کرنے کی کوشش کی تو وہ اس کی سزا بھگتیں گے اور اگر اولاد نے والدین کے ھق کے ساتھ ساتھ میرے حق کو بھی کما حقہ، پہنچانا اور اس حق پر قائم رہن میں استقامات دکھائی تو وہ اپنی اس عزیمت کا بھرپور صلہ پائے گی۔