تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 16
یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ﴿16﴾
- يٰبُنَيَّاے میرے بیٹے
- اِنَّهَآبیشک وہ
- اِنْ تَكُاگر ہو
- مِثْقَالَ حَبَّةٍوزن (برابر) دانہ
- مِّنْسے (کے)
- خَرْدَلٍرائی
- فَتَكُنْپھر وہ ہو
- فِيْمیں
- صَخْرَةٍسخت پتھر
- اَوْیا
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- اَوْیا
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- يَاْتِ بِهَالے آئے گا اسے
- اللّٰهُ ۭاللہ
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- لَطِيْفٌباریک بین
- خَبِيْرٌخبردار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے میرے بیٹے ! کوئی عمل اگر رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا تو خواہ وہ کسی گھاٹی میں ہو یا آسمانوں یا زمین میں ہو اللہ اس کو حاضر کردے گا۔ بیشک اللہ نہایت ہی باریک ہیں اور باخبر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یبنی انھا ان تک مثقا حبۃ من خردل فتکن فی صخرۃ اوفی السموات او فی الارض یات بھا اللہ ان اللہ لطیف خبیر (16)
تضمین کی آیات کے بعد لقمان کی موعظت پھر شروع ہوگئی۔ اوپر لقمان نے بیٹے کو شرک سے اجتناب اور توحید کی تعلیم دی ہے اور یہ بات اپنے محل میں واضح ہوچکی ہے کہ اسی عقیدے پر تمام عقائد کی بنیاد ہے۔ توحید کے بعد دوسرا بنیادی عقیدہ آخرت کا عقیدہ ہے۔ اس آیت میں آخرت سے متعلق ان کا موعظت کا حوالہ ہے۔ فرمایا کہ اے بیٹے ! اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی نیک یا بدعمل کسی کا ہوگا تو خواہ وہ کسی پہاڑی یا گھاٹی کے اندر ہو یا لا متناہی یا ناپیدا کنار فضائوں اور آسمانوں میں ہو یا زمین کی تہوں کی بتوں میں ہو، جہاں کہیں بھی ہوگا، خد قیامت کے دن اس کو حاضر کردے گا، اس لئے کہ اللہ نہایت باریک بیں اور نہایت باخبر ہے۔
یہ امر یہاں ملحاظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم سے ناآشنائی ہی ہے جس کے سبب سے قوموں کو توحید کے معاملے میں مغالطہ پیش آیا اور وہ شرک میں مبتلا ہوئیں اور یہی چیز آخرت کے باب میں بھی بہت سی گمراہیوں کا سبب ہوئی۔ اس وجہ سے لقمان نے اس حکمت کی یاددہانی کی جو توحید اور قیامت دونوں کے باب میں ان کے فرزند کے ذہن کو بالکل صاف کردے۔
’ انھا ‘ میں ضمیر قصہ یا ضمیر شان ہے۔ اس صورت میں متکلم، ضمیر اپنے معہودِ ذہنی کو پیش نظر رکھ کر استعمال کرتا ہے۔ یہاں مہود ذہنی ’ جتہ خردل ‘ کے برابر عمل ہے اس وجہ سے ’ حبۃ ‘ کی رعایت سے ضمیر مونث استعمال ہوئی۔
’ صخرۃ ‘ سے پتھر مراد لینا ضروری نہیں ہے۔ اس سے پہاڑی اور گھاٹی بھی مراد لے سکتے ہیں۔ یہ بات عربیت کے بالکل مطابق ہوگی۔ میں نے ترجمہ میں اسی مفہوم کو پیش نظر رکھا ہے۔ ابن جریر نے بھی ایک گروہ کا یہی قول نقل کیا ہے۔