Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 17

  1. یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ﴿17﴾

    1. يٰبُنَيَّاے میرے بیٹے
    2. اَقِمِ الصَّلٰوةَقائم کر نماز
    3. وَاْمُرْاور حکم دے
    4. بِالْمَعْرُوْفِاچھے کام
    5. وَانْهَاور روک تو
    6. عَنِسے
    7. الْمُنْكَرِبری بات
    8. وَاصْبِرْاور صبر کر
    9. عَلٰيپر
    10. مَآ اَصَابَكَ ۭجو تجھ پر پہنچے
    11. اِنَّ ذٰلِكَبیشک یہ
    12. مِنْسے
    13. عَزْمِ الْاُمُوْرِبڑی ہمت کے کام
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے میرے بیٹے ! نماز کا اہتمام رکھو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور جو مصیبت تمہیں پہنچئے۔ اس پر صبر کرو۔ بیشک یہ باتیں عزیمت کے کاموں میں سے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یبنی اقم الصلوۃ وامر بالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک ان ذلک من عزم الامور (17) اللہ تعالیٰ کے شکر کی تعلیم دینے کے بعد اس شکر کا زندگی میں جو اثر نمایاں ہونا چاہیے اس کی ہدایت فرمائی۔ اس سلسلہ میں سب سے اول، نماز کو لیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر کا سب سے اول اور سب سے بڑا مظہر نماز ہی ہے۔ یہی تمام انبیاء اور تمام مذاہب کی متفق علیہ تعلیم ہے۔ فرمایا کہ اے میرے بیٹے ! نماز قائم کرو۔ دوسرے مقام میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ ’ نماز قائم کرو، کا مفہوم یہ ہے کہ نماز کا اہتمام کرو۔ یعنی خود بھی نماز کی پابندی کرو اور دوسروں کے لئے بھی اس کا انتظام کرو اور ان کو اس کے لئے ابھارو۔ ’ وامر بالمعروف ‘۔ یہ خدا کی شکر گزاری ہی کا دوسرا پہلو ہے جو بندے کو خلق سے مربوط کرتا ہے۔ نماز بندے کو اس کے رب سے جوڑتی ہے اور امر بالمعروف کے ذریعے سے وہ اللہ کے بندوں سے جڑتا ہے۔ معروف میں وہ تمام کام شامل ہیں جو ادائے حقوق سے متعلق ہیں۔ مثلاً اللہ کی راہ میں انفاق، یتیموں، مسکینوں، پڑوسیوں اور دوسرے مستحقین کی مدد اور اس نوع کے دوسرے کام جو ہر اچھی سوسائٹی میں معلوم و معروف ہیں اور جن کا یہ اہتمام ہر وہ شخص کرتا ہے اور اس کو کرنا چاہیے جو اپنے رب کا شکر گزار بندہ ہے۔ ’ وانہ عن المنکر ‘۔ یہ ان چیزوں سے باز رکھنے کی ہدایت ہے جو معروف کی ضد ہیں۔ بخالت، غصبِ حقوق، تعدی، عہد شکنی، فخر و غرور اور اس قبیل کی ساری چیزیں اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ ’ واصبر علی ما اصابک ‘۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی یہ راہ کوئی آسان راہ نہیں ہے۔ جب اس فرض کو ادا کرنے کے لئے اٹھو گے تو ہر قدم پر تمہیں راہ مشکلات و مصائب سے رندھی ہوئی نظر آئے گی، اگر تم میں صبر نہیں ہوگا تو ایک قدم بھی تم آگے نہیں بڑھا سکو گے۔ اگر اس راہ کی بازیاں جیتنی ہیں تو ضروری ہے کہ جو کچھ پیش آئے اس کا پوری عزیمت سے مقابلہ کرو۔ ’ ان ذلک من عزم الامور۔ ‘ یہ اسی مضمون کو مزید تاکید اور وضاحت ہے کہ یہ کام نیم دلی کے ساتھ اور ڈھیلے ڈھالے ہاتھوں سے نہیں انجام پاتے۔ ان سے وہی لوگ عہدہ برآہوتے اور ہوسکتے ہیں جو پوری عزیمت کے ساتھ ان کے انجام دینے کے لئے اٹھتے اور سردھڑ کی بازی لگا کر ان کو انجام دیتے ہیں۔ سورة عصر میں حق کے ساتھ صبر کا جو ذکر آیا ہے وہ بھی اسی تعلق سے آیا ہے۔