Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 27

  1. وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿27﴾

    1. وَلَوْاور اگر
    2. اَنَّیہ ہو کہ
    3. مَاجو
    4. فِي الْاَرْضِزمین میں
    5. مِنْسے۔ کوئی
    6. شَجَرَةٍدرخت
    7. اَقْلَامٌقلمیں
    8. وَّالْبَحْرُاور سمندر
    9. يَمُدُّهٗاس کی سیاہی
    10. مِنْۢ بَعْدِهٖاس کے بعد
    11. سَبْعَةُسات
    12. اَبْحُرٍسمندر (جمع)
    13. مَّا نَفِدَتْتو بھی ختم نہ ہوں
    14. كَلِمٰتُ اللّٰهِ ۭاللہ کی باتیں
    15. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    16. عَزِيْزٌغالب
    17. حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ، روشنائی بن جائیں جب بھی اللہ کی نشانیاں قلم بند نہیں ہوسکتیں۔ بیشک اللہ غالب و حکیم ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولو ان فی الارض من شجرۃ اقلام والبحر یمدہ من بعدہ سبعۃ البحرما نفدت کلمت اللہ ان اللہ عزیز حکیم (27) سورة کہف میں یہی مضمون بدیں الفاظ گزرا ہے : قل لو کان البحر مدادا لکلمت ربی النفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی ولو جئنا بمثلہ مدادا (109)۔ ان سے کہہ دو کہ اگر میرے رب کی نشانیوں کو قلم بند کرنے کے لئے سمندر بھی روشنائی بن جائے تو میرے رب کی نشانیوں کے قلم بندہونے سے پہلے سمندر خشک ہوجائے گا اگرچہ اسی کے برابرہم اور روشنائی فراہم کرلیں۔ ’ کلمنت ‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ نشانیاں ہیں جو اس کی ذات وصفات اور اس کی قدرت و حکمت پر گواہی دیتی ہیں۔ چونکہ ہر نشانی اللہ کے کلمہ کن کا مظہر ہے اور ہر نشانی زبان حال سے ناطق بھی ہے اس وجہ سے یہاں نشانیوں کو کلمات سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ تعبیر نہایت ہی معنی خیز تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کوئی ایسی مبہم و مجہول چیز نہیں ہے کہ اس کے باب میں لوگوں کو ایسا التباس پیش آئے کہ لوگ جس اینٹ پتھر کو چاہیں خدا سمجھ کر اس کو ڈنڈوت شروع کردیں۔ اس کائنات میں دا کی اتنی نشانیاں ہیں کہ اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام سمندر، مزید سات سمندروں کے اضافے کے ساتھ، روشنائی بن جائیں جب بھی ان کا قلم بند کیا جانا ممکن نہیں ہے۔ اور یہ تمام نشانیاں اس بات پر شاہد ہیں کہ اس کا خالق عزیز و حکیم ہے۔ ان دونوں صفتوں کی وضاحت جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بنیادی صفات میں سے ہیں اور قرآن میں ان سے جگہ جگہ توحید، قیامت اور رسالت تینوں پر استدلال کیا گیا ہے اور یہی مسائل قرآن کے اصول مسائل ہیں۔ گویا اس کائنات کی ہر چیز اس کے خالق کے عزیز و حکیم ہونے کی گواہی دے رہی ہے اور انہی کے مقضیات ہیں جن کو تسلیم کرنے کی قرآن دعوت دے رہا ہے۔ اس آیت میں ’ اقلام ‘ کا مقابل لفظ ’ مداد ‘ حذف ہے۔ اس حذف کو کھول دیجئے تو پوری عبارت یوں ہوگی۔ ما فی الارض من شجرۃ اقلام و البحر مداد ‘ حذف کے اس اسلوب کی مثالیں ہم جگہ جگہ پیش کرتے آرہے ہیں۔ سورة کف کی مذکورہ بالاآٰت کے تحت ہم یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ کوئی مبالغہ کا اسلوب نہیں ہے بلکہ یہ بیان حقیقت ہے۔ وہاں ہم نے لکھا ہے کہ اگر سمندر روشنائی بن جائے تو یہ روشنائی خود سمندر ہی کے عجائب کو قلم بند کرنے کے لئے کافی نہیں ہوگی چہ جائیکہ اس پوری کائنات کے عجائب۔ یہ زمین جو ہمارے قدموں کے نیچے ہے خدا کی لامتناہی کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر حصہ ہے۔ لیکن سائنس کی تمام ترقیوں کے باوجود اب تک انسان اس کے جو عجائب دریافت کرسکا ہے اس کی حیثیت سمندر کے ایک قطرے سے زیادہ نہیں ہے۔