تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 28
مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ﴿28﴾
- مَا خَلْقُكُمْنہیں تم سب کا پیدا کرنا
- وَلَا بَعْثُكُمْاور نہیں تمہارا جی اٹھنا
- اِلَّامگر
- كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭجیسے ایک شخص
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- سَمِيْعٌۢسننے والا
- بَصِيْرٌدیکھنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم کو پیدا کردینا اور تم کو زندہ کردینا بس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا پیدا کردینا اور زندہ کردینا، بیشک اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ما خلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ ط ان اللہ سمیع بصیر (28)
یہ اوپر کے تمام مقدمات کا نتیجہ اور خلاصہ سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ جب اس کائنات کی ہر چیز شاہد ہے کہ اس کا خالق عزیز بھی ہے اور سکیم بھی تو اس امر میں کسی شک کی گنجائش کہاں باقی رہی کہ ایک دن اللہ تعالیٰ سب کو ازسرنو پیدا کرکے قبروں سے اٹھائے گا۔ وہ عزیز ہے اس وجہ سے اس کے لئے یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں ہے اور حکیم ہے اس وجہ سے یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو وہ عزیز نہیں رہتا اور اگر کرسکنے کے باوجود نہ کرے تو یہ اس کی حکمت کے مناف ہے اس لئے کہ قیامت کے بغیر یہ دنیا ایک بازیچہ اطفا بن کے رہ جاتی ہے۔ اس حقیقت کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔
الا کنفس واحدہ میں مضاف مخدوف ہے یعن کخلق نفس واحدۃ یا کبعث نفس واحدہ یعنی کسی کو یہ گمان نہ ہو کہ اتنی ساری مخلوق کو ازسر نو پیدا کرنا اور ان کو اکٹھا کرنا کس کے امکان میں ہے۔ فرمایا کہ اللہ کے لئے ایک نفس کو پیدا کردینا اور تمام جہان کو پیدا کردینا اور اس کو اٹھا کھڑا کرنا یکسا ہے۔ اس کے ایک ہی کلمہ کن، یا ایک ہی نفخ صور سے ساری دنیا از سرِ نوزندہ ہو کر اٹھ کھڑی ہوگی۔ وہ ہر چیز پر قادر اور عزیز ہے۔
’ ان اللہ سمیع بصیر۔ ‘ یہ قیامت کے اصل مقصد، حساب کتاب، کی یاد دہانی ہے کہ کسی کو یہ غلط فہمی بھی نہ ہو کہ اتنی وسیع خلقت کے احوال و معاملات کا علم کسے ہے کہ وہ ان کا حساب کرنے بیٹھے گا۔ فرمایا کہ اللہ سب کچھ سن اور دیکھ رہا ہے۔ کوئی چیز اس کے علم و مشاہد سے باہر نہیں ہے اس وجہ سے اس کو لوگوں کا حساب کرنے اور ان کو جزا یا سزا دینے میں کوئی زحمت نہیں پیش آئے گی۔