تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 29
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿29﴾
- اَلَمْ تَرَکیا تو نے نہیں دیکھا
- اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
- يُوْ لِجُداخل کرتا ہے
- الَّيْلَرات
- فِي النَّهَارِدن میں
- وَيُوْ لِجُاور داخل کرتا ہے
- النَّهَارَدن
- فِي الَّيْلِرات میں
- وَسَخَّرَاور اس نے مسخر کیا
- الشَّمْسَسورج
- وَالْقَمَرَ ۡاور چاند
- كُلٌّہر ایک
- يَّجْرِيْٓچلتا رہے گا
- اِلٰٓىطرف
- اَجَلٍمدت
- مُّسَمًّىمقررہ
- وَّاَنَّاور یہ کہ
- اللّٰهَاللہ
- بِمَا تَعْمَلُوْنَاس سے جو کچھ تم کرتے ہو
- خَبِيْرٌخبردار
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ ہی ہے جو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور دن کو رات میں اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک گردش کرتا ہے ایک مقررہ وقت تک اور یہ کہ اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے باخبر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
الم تران اللہ یولج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل وسخر الشمس والقمر کل یجری الی اجل مسمی وان اللہ بما تعملون خبیر (29)
اوپر آیت 20 میں ’ الم تروا ‘ جمع کے صیغہ سے اپنی آیات کی طرف توجہ دلائی تھی یہاں ’ الم تر ‘ واحد کے صیغہ سے توجہ دلائی ہے۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ ’ الم تر ‘ کا خطاب جمع کے لئے بھی آتا ہے۔ اس صورت میں گویا مخاطب گروہ کے ایک ایک شخص کو فرداً فرداً توجہ دلائی جاتی ہے اور اس میں جمع کے مقابل میں زیادہ زور ہوتا ہے۔
فرمایا کہ یہ خدا ہی کی قدرت و حکمت ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنا، تصویر ہے یکے بعد دیگرے، پوری سرگرمی کے ساتھ، ایک دوسرے کے تعاقب اور پوری پابند اوقات کے ساتھ، ان کی آمد و شد کی۔
’ وسخرا الشمس والقمر کل یجری الی اجل مسمی اور یہ اسی کی قدرت و حکمت ہے کہ س نے سورج اور چاند کو اپنی خلق کی خدمت گزاری کے لئے مسخر کر رکھا ہے اور یہ دونوں پوری پابندی اوقات کے ساتھ اپنے عار میں گردش کرتے ہں۔ مجال نہیں ہے کہ مدار سے سرموانحراف ہو یا نظام اوقات کی پابندی میں منٹ یا سکینڈ کا بھی فرق واقع ہونے پائے۔
ان نشانیوں کی طرف توہ دلانے سے مقصود انہی حقائق کو مبرہین کرنا ہے جو اوپر زیر بحث آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی قدرت کی یہ نشانیاں دیکھتے ہو اس کی نسبت تم یہ گمان کرتے ہو کہ وہ تم کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ جو رات اور دن اور سورج اور چاند کو اس طرح گردش دے رہا ہے کیا اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کا شریک ہونے کا درجہ رکھتی ہے ! اور کیا جس نے اپنی ربوبیت کی یہ شانیں دکھائی ہیں اس کی نسبت اس سوئے ظن کی کوئی گنجائش ہے کہ اس نے یہ سارا کارخانہ بالکل عبث بنایا ہے، اس کے پیچھے کوئی روزِ اجر نہیں ہے۔
’ فان اللہ بما تعملون خبیر ‘۔ یعنی اگر تم اس نظام ربوبیت وقدرت پر غور کرو تو اس امر میں ذرا شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہے گی کہ جو اس سارے نظام کو چلا رہا ہے وہ تم سے اور تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں ہوسکتا۔ اگر وہ بیخبر ہو تو وہ تمہاری پرورش کس طرح کرے گا ؟ اور اگر باخبر ہے تو آخر وہ تم سے پرسش کیوں نہیں کرے گا کہ تم نے اس کی پروردگاری کا حق ادا کیا یا نہیں !