تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 8
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ﴿8﴾
- اِنَّ الَّذِيْنَبیشک جو لوگ
- اٰمَنُوْاایمان لائے
- وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
- الصّٰلِحٰتِاچھے
- لَهُمْان کے لیے
- جَنّٰتُ النَّعِيْمِنعمتوں کے باغات
Translation · Tadabbur-e-Quran
البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کے لئے نعمت کے باغ ہوں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان الذین امنوا وعملو الصلحت لھم جنت النعیم۔ خلدین فیھا وعد اللہ حقا وھو العزیز الحکیم (8۔ 9)
یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے اور ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو بنانے اور سنوارنے والے ہیں۔ فرمایا کہ ان کے لئے نعمت کے باغ ہوں گے جن میں ہمیشہ رہیں گے۔ ’ وعد اللہ حقا ‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے جو پورا ہو کے رہے گا۔ اس جملے میں تاکید در تاکید کا جو مضمون مضمر ہے اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اوپر آیت 6 میں ذکر ہوچکا ہے کہ متکبرین اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے استہزا کا خاص ہدف وہ آیتیں تھیں جن میں اس دور کے لئے بےبس اور غریب مسلمانوں کو ایک ابدی بادشاہی کی خوش خبری سنائی جاتی تھی۔ معاملے کا یہ پہلو مقتضی ہوا کہ یہ بات پورے زور اور تاکید سے کہی جائے کہ مذاق اڑانے والے اگر اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو اڑائی لیکن اہل ایمان اطمینان رکھیں کہ اللہ کا یہ وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔
’ وھو العزیز الحکیم ‘۔ یہ اسی وعدے کے حتمی ہونے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات سے دلیل پیش کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر مستکبروں اور ظالموں کو سزا اور ایمان و عمل صالح والوں کو جزا نہ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ نہ وہ عزیز ہے نہ حکیم ہے بلکہ العیاذ باللہ وہ ایک بالکل عاجز و بےبس ہستی ہے جس نے بالکل بےغایت و بےحکمت یہ دنیا بناڈالی۔ حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ خدا نہ صرف عزیز و حکیم ہے بلکہ حقیقی عزیز و حکیم وہی ہے۔ اس طرز استدلال کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ یہاں اشارے پر اکتفا فرمائیے۔