تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 13
وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ﴿13﴾
- وَلَوْاور اگر
- شِئْنَاہم چاہتے
- لَاٰتَيْنَاہم ضرور دیتے
- كُلَّ نَفْسٍہر شخص
- هُدٰىهَااس کی ہدایت
- وَلٰكِنْاور لیکن
- حَقَّثابت ہوچکی
- الْقَوْلُبات
- مِنِّيْمیری طرف سے
- لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَالبتہ میں ضرور بھردوں گا جہنم
- مِنَسے
- الْجِنَّةِجنوں
- وَالنَّاسِاور انسان
- اَجْمَعِيْنَاکٹھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اگر ہم چاہتے تو ہر ایک کو اس کی ہدایت خود ہی دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ بات متحقق ہوچکی ہے کہ میں جنوں اور انسانوں سے جہنم کو بھر کے چھوڑوں گا ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
دلو شئنا لا تینا کل نفس ھذلھا ولکن حق القول منی لاملنئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین (13)
یہ ان کے اعترا اور ان کی درخواست کا جواب ہے جو برسر موقع ان کو دیا جائے گا کہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد تمہارا یہ اقرار و ایمان بالکل بےسود ہے۔ اگر اللہ کو اس طرح کا مجبورانہ ایمان پسند ہوتا تو وہ ہر شخص کو ایمان و ہدایت پر ہی پیدا کرتا۔ یہ اس کے لئے ذرا بھی مشکل نہیں تھا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا کہ بلکہ ہدایت کے معاملے میں اس نے لوگوں کو اختیار دیا کہ وہ امتحان کرے کہ کون اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر ایمان کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون اپنی خواہشوں کی پیروی میں شیطان کی راہ پسند کرتا ہے۔
ولکن حق القول منی لاملئن جھم من الجنۃ والناس اجمعین۔ یہ اس فیصلہ کی طرف اشارہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو اس کے چیلنج کے جواب میں آگاہ فرما دیا تھا۔ قرآن میں اس کا ذکر جگہ جگہ آیا ہے۔ سورة ص میں اس کا حوالہ یوں ہے :
قال فبعزتک لا غوینھم اجمعین الا عبادک منھم المخلصین قال فالح والحق اقول لا ملئن جھنم منک وممن ببعک منھم اجمعین (ص : 82۔ 85)
ابلیس نے کہا تیرے عزت و جلال کی قسم ! میں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ بس ان میں سے تیرے خاص بندے ہی بچ رہیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ پھر یہ بات بھی حق ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں کہ میں بھی تجھ سے اور تیری ذریت سے اور ان انسانوں میں سے جو تیری پیروی کریں گے، سب کو جہنم میں بھر کے رہوں گا۔
یہاں اس قول کا حوالہ دینے سے مقصود مجرموں کو اس بات سے آگاہ کرنا ہوگا کہ اب عذرومعذرت کا وقت گزر گیا۔ اللہ نے شیطان کے جواب میں پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا دیا تھا کہ وہ نبی آدم میں سے جن کو گمراہ کرسکتا ہے گمراہ کرلے۔ انسان کو خدا نے یہ آزادی دی کہ وہ چاہے تو رحمان کی راہ اختیار کرے اور چاہے تو شیطان کی راہ اختیار کرے۔ دنیا کی زندگی میں یہ امتحان تھا۔ اب امتحان کا مرحلہ گزر چکا اور نتائج بھگتنے کی باری ہے چناچہ آج وہ انجام تمہارے سامنے آگیا اور میری بات تم پر پوری ہوئی۔