Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 14

  1. فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿14﴾

    1. فَذُوْقُوْاپس چکھو تم
    2. بِمَاوہ جو
    3. نَسِيْتُمْتم نے بھلا دیا تھا
    4. لِقَآءَملاقات
    5. يَوْمِكُمْاپنے دن
    6. ھٰذَا ۚاس
    7. اِنَّا نَسِيْنٰكُمْبیشک ہم نے تمہیں بھلا دیا
    8. وَذُوْقُوْااور چکھو تم
    9. عَذَابَ الْخُلْدِہمیشہ کا عذاب
    10. بِمَااس کا بدلہ جو
    11. كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَتم کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو اب چکھو مزا اس بات کا کہ تم نے اس دن کی پیشی کو بھلائے رکھا۔ ہم نے بھی تم کو نظر انداز کیا اور تم اپنے کیے کی پاداش میں اب ہمیشگی کا عذاب چکھو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فذوقا بما نسی لقاء یومکم ھذا انا نسینکم و ذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون (14) ’ نسی ‘ کے معنی ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، نظر انداز کرنے اور ٹالنے کے بھی آتے ہیں۔ یہاں یہ نظر انداز کرنے ہی کے معنی میں ؁ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب کسی سوال و درخواست کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ جس طرح تم نے اس دن کو نظر انداز کیے رکھا آج ہم نے تم کو نظر انداز کیا۔ اب تمہاری کوئی درخواست والتجا ہمارے نزدیک درخور اعتنا نہیں رہی۔ اب اپنے اعمال کو پاداش میں ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ یعنی یہ تمہارے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہے بلکہ عمر بھر جس فصل کی تم نے کاشت کی ہے یہ اسی کا حاصل تمہارے سامنے آیا ہے۔