Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 15

  1. اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩۩﴿15﴾

    1. اِنَّمَااس کے سوا نہیں
    2. يُؤْمِنُایمان لاتے ہیں
    3. بِاٰيٰتِنَاہماری آیتوں پر
    4. الَّذِيْنَوہ جو
    5. اِذَاجب
    6. ذُكِّرُوْایاد دلائی جاتی ہیں
    7. بِهَاوہ
    8. خَرُّوْا سُجَّدًاگرپڑتے ہیں سجدہ میں
    9. وَّسَبَّحُوْااور پاکیزگی بیان کرتے ہیں
    10. بِحَمْدِتعریف کے ساتھ
    11. رَبِّهِمْاپنا رب
    12. وَهُمْاور وہ
    13. لَا يَسْتَكْبِرُوْنَتکبر نہیں کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہماری آیات پر تو بس وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے ذریعہ سے ان کو یاددہانی کی جاتی ہے تو وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 15۔ 22 اوپر کی آیات سے واضح ہوا کہ جو لوگ قرآن پر ایمان لانے سے گریز کر رہے تھے ان کے گریز کے اسباب کیا تھے۔ اب آگے کی آیات میں یہ بتایا ہے کہ کس قسم کے لوگ ہیں جو اس کتاب پر ایمان لا رہے ہیں یا لائیں گے اور ان کے لئے خدا کے ہاں کیا اجرو ثواب اور کیا مرتبہ و مقام ہے اور جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کس انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت انما یومن بایتنا الذی اذ ذکروا بھا خروا سجد وسبحوا بعمد ربھم وھم لا یستکرون (15) یہ آیت نبی ﷺ کے لئے تسلی کے سیاق میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی دنیوی برتری کے زعم میں اپنے کو حق سے بھی بڑا سمجھے لگے ہیں ان سے کسی خیر کی امید نہ رکھو، ہماری ان آیات پر صرف وہ لوگ ایمان لائیں گے جن کے دلوں کے اندر خشیت وانابت ہے۔ ان کو جب ان کے ذریعہ سے خدا اور آخرت کی یاددہانی کی جاتی ہے تو وہ جھگڑنے کے بجائے بےتحاشا مسجدوں میں گر پڑتے اور اپنے رب کی تسبیح کرتے ہیں اس کی حمد کے ساتھ۔ یعنی ان آیات سے اثر پذیر وہ لوگ ہوں گے جن کے دلوں کے اندر قساوت نہیں پیدا ہوئی ہے۔ اس طرح کے لوگوں کے دلوں پر اگر غفلت کا کچھ غبار ہوتا ہے تو وہ تذکیر و تنبیہ سے فوراً صاف ہوجاتا ہے اور پھر وہ حق کو ایسے جوش و جذبہ کے ساتھ اختیار کرتے ہیں کہ سالوں کی منزل، دنوں میں طے کرتے ہیں۔ ’ سبحوا بحمد ربھم۔ ‘ تسبیح اور حمد ‘ دونوں کے ایک ساتھ ذکر کرنے کے فائدے پر ہم دوسری جگہ روشنی ڈال چکے ہیں۔ ’ تسبیح ‘ کے اندر تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور ’ حمد ‘ کے اندر اثبات کا…خدا کی صحیح معرفت ان دونوں ہی پہلوئوں کو ملحوظ رکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی پہلو بھی نگاہوں سے اوجھل ہوجائے تو انسان خدا کے باب میں ایسی غلط فہمیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ خدا کا وجود اور عدم دونوں اس کے لئے یکساں ہو کے رہ جاتا ہے۔ ’ وھم لایستکبرون ‘۔ یہ اصل گر کی بات ارشاد ہوئی ہے کہ ان لوگوں کے اندر یہ صلاحیت اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ ان میں استکبار نہیں ہے۔ استکبار کی حقیقت پر ہم دوسری جگہ روشنی ڈال چکے ہیں۔ اس کا صحیح مفہوم حق کے مقابل میں اکڑنا ہے۔ یہ بیماری ام الامراض ہے۔ جو لوگ اس مہلک مرج میں مبتلا ہوتے ہیں وہ اپنی خواہشوں اور اپنی رائے کے مقابل میں کسی واضح حق کو بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو قبول حق کی صلاحیت سے بالکل ہی محروم کردیتا ہے۔ قبولِ حق کی توفیق صرف ہی لوگ پاتے ہیں جو حق، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر چیز سے بالاسمجھتے ہیں اور جب وہ ان کے سامنے آتا ہے تو خواہ کسی گوشے سے آئے، یہاں تک کہ اگر ان کا دشمن بھی اس کو پیش کرے، تو وہ فوراً اس کے آگے گردن جھکا دیتے ہیں۔