تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 19
اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿19﴾
- اَمَّارہے
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
- وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
- الصّٰلِحٰتِاچھے
- فَلَهُمْتو ان کے لیے
- جَنّٰتُ الْمَاْوٰي ۡباغات رہنے کے
- نُزُلًۢامہمانی
- بِمَااس کے (صلہ میں) جو
- كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کے لئے راحت کے باغ ہیں جو ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں، اولین سامان ضیافت کے طور پر، حاصل ہوں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واما الذین امنوا وعملوا الصلحت فلھم جنت الماوی نذلا بما کانو یعلمون (19)
یہ اس جزا اور سزا کی تفصیل بیان فرمائی کہ جو لوگ ایمان و عمل صالح کی زندگی بسر کری گے ان کے لئے راحت کے باغ ہوں گے جو ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں اولین سامان میزبانی کی حیثیت سے ملیں گے۔ نزل اس سامانِ ضیافت کو کہتے ہیں جو مہمان کے سامنے اس کے مرکب سے اترتے ہی پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ جنات الماوی ‘ سے مراد وہ جنتیں ہیں جن میں یہ اہل ایمان اول اول اتارے جائیں گے۔ وہاں ان کی ابتدائی ضیافت ہوگی اور پھر وہ اصل جنت میں بھیجے جائیں گے۔ گویا ان باغوں کی حیثیت اہل جنت کے لئے (Rest House) کی ہوگی اور اس کے جمع لانے سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ باغ تمام اہل جنت کے لئے الگ الگ ہوں گے۔ سورة نجم کی آیت 15 سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ جنت الماوی، سدرۃ المنتھی ‘ کے پاس ہے اور ’ سدرۃ المنتھی ‘ عالم ناسوت اور عالم لاہوت کے درمیان آخری نقطہ اتصال ہے اس وجہ سے اگر اس کے پاس جنات الماوی ہوں تو یہ ان کے لئے موزوں ترین مقام ہے۔ یہ امور غیب کی باتیں ہیں، ان کے باب میں کوئی بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے لفظ ’ نزل ‘ کے مقتضیات کی وضاحت کے لئے لکھا ہے۔ انشاء اللہ سورة نجم کی تفسیر میں جنت ا۔۔۔ ‘ پر مزید بحث آئے گی۔