Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 21

  1. وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿21﴾

    1. وَلَنُذِيْقَنَّهُمْاور البتہ ہم انہیں ضرور چکھائیں گے
    2. مِّنَکچھ
    3. الْعَذَابِعذاب
    4. الْاَدْنٰىنزدیک
    5. دُوْنَسوائے (پہلے)
    6. الْعَذَابِعذاب
    7. الْاَكْبَرِبڑا
    8. لَعَلَّهُمْشاید وہ
    9. يَرْجِعُوْنَلوٹ آئیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اہم ان کو بڑے عذاب کے سوا قریب کا عذاب بھی چکھائیں گے تاکہ یہ رجوع کریں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون (21) ’ عذاب ادنی ‘ سے مراد اس دنیا کا عذاب ہے جو تذکیر و تنبیہ کے لئے آتا ہے۔ اوپر کی آیات میں ’ عذاب اکبر ‘ کا ذکر تھا جس سے کفار کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا۔ فرمایا اس ’ عذاب اکبر ‘ سے پہلے اس دنیا میں بھی ہم ان لوگوں کو اپنے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ ان لوگوں سے مراد ظاہر ہے کہ قریش ہیں۔ یہاں جو باتیں فرمائی گئی ہیں اگرچہ عام الفاط میں فرمائی گئی ہیں لیکن ان کے اول مخاطب قریش ہی ہیں۔ ان کو دھمکی دی ہے کہ وہ متنبہ رہیں کہ اس دنیا میں بھی ان کو سزا ملے گی اور مقصود اس سے یہ ہوگا کہ وہ اپنی غلط روش سے باز آئیں اور صحیح زندگی کی طرف پلٹیں۔ اس عذاب ادنی کا سلسلہ قریش کے لئے غزوہ بدر سے شروع ہوا جس میں ان کو پہلا چرکا لگا اور ان کے بڑے برے سردار مارے گئے۔ پھر یکے بعد دیگرے اسی طرح کے حالات سے ان کو سابقہ پیش آتا رہا۔ یہاں تک کہ فتح مکہ کے موقع پر ان کی قوت ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔ ان کے اندر جو اچھے لوگ تھے وہ آہستہ آہستہ حلقہ بگوش اسلا ہوگئے اور جو اشرار و مفسدین تھے وہ بالتدریج ختم ہوگئے۔ چونکہ ان کی اکثریت آنحضرت ﷺ پر ایمان لائی اس وجہ سے ان پر کوئی اس قسم کا فیصلہ کن عذاب نہیں آیا جس قسم کے عذاب پچھلی قوموں پر آئے بلکہ یہ صرف تنبیہ کرکے چھوڑ دیے گئے، جیسا کہ لعلھم یرجعون کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے۔