Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 27

  1. اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ﴿27﴾

    1. اَوَکیا
    2. لَمْ يَرَوْاانہوں نے نہیں دیکھا
    3. اَنَّا نَسُوْقُکہ ہم چلاتے ہیں
    4. الْمَآءَپانی
    5. اِلَىطرف
    6. الْاَرْضِزمین
    7. الْجُرُزِخشک
    8. فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًاپھر ہم نکالتے ہیں اس سے کھیتی
    9. تَاْكُلُکھاتے ہیں
    10. مِنْهُاس سے
    11. اَنْعَامُهُمْان کے مویشی
    12. وَاَنْفُسُهُمْ ۭاور وہ خود
    13. اَفَلَاتو کیا
    14. يُبْصِرُوْنَدیکھتے نہیں وہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا انہوں نے دھیان نہیں کیا کہ ہم پانی کے بادلوں کو چٹیل زمین کی طرف ہانک کرلے جاتے ہیں پس اس سے کھیتی اگاتے ہیں جس سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی تو کیا انہیں سمجھائی نہیں دے رہا ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اولم یروا انما نسوق الماء الی الارض الجرز فنخرج بہ زرعا تاکل منہ انعامھم وانفسھم افلا یبصرون (27) ’ الماء ‘ سے یہاں مراد چونکہ پانی والے بادل ہیں اس وجہ سے اس کے لئے لفظ نسوق کا استعمال موزوں ہوا۔ ’ ارض جرز ‘ چٹیل اور بنجر زمین کو کہتے ہیں۔ اوپر کی آیات میں ان تاریخی آثار و واقعات کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس دنیا میں خدا کے قانون مجازات کے شاہد ہیں۔ اب یہ آخرت کی طرف توجہ دلائی کہ اس کے وقوع کو بھی بعید از امکان نہ سمجھو، وہ بھی واقع ہو کے رہے گی اور اس دن اللہ تعالیٰ اپنا آکری فیصلہ صادر فرمائے گا۔ فرمایا کہ کیا یہ لوگ خدا کی اس قدرت و ربوبیت کو نہیں دیکھتے کہ ہم پانی سے بوجھل بادلوں کو ہانک کر چٹیل زمیوں کی طرف لے جاتے ہیں اور پھر اس پانی سے مختلف قسم کی فصلیں اگاتے ہیں جو ان کے مویشیوں کے کام بھی آتی ہیں اور خود ان کے کام بھی ! ’ افلا یبصرون ‘۔ اوپر کی آیت میں ان کو عدم سماعت پر ملامت کی ہے۔ یہ ان کی عدم بصارت پر ملامت ہے کہ جس طرح ان کے کان بہرے ہوچکے ہیں اسی طرح ان کی آنکھوں کی بصارت بھی سلب ہوچکی ہے۔ یہ اس زمین کو مردہ اور زندہ ہوتے آئے دن دیکھتے ہیں لیکن پھر بھی یہ اس شک میں مبتلا ہیں کہ خدا ان کو اس سے دوبارہ اٹھا سکنے پر قادر نہیں ہے۔ اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور ربوبیت کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔ اور یہ دونوں صفتیں قیامت کے وقوع اور اس کی ضرورت کی نہایت واضح دلیلوں میں سے ہیں۔ ان کی وضاحت پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔