Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 9

  1. اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ع﴿9﴾

    1. اَفَلَمْ يَرَوْاکیا انہوں نے نہیں دیکھا
    2. اِلٰىطرف
    3. مَاجو
    4. بَيْنَ اَيْدِيْهِمْان کے آگے
    5. وَمَااور جو
    6. خَلْفَهُمْان کے پیچھے
    7. مِّنَ السَّمَآءِآسمان سے
    8. وَالْاَرْضِ ۭاور زمین
    9. اِنْ نَّشَاْاگر ہم چاہیں
    10. نَخْسِفْ بِهِمُانہیں دھنسا دیں ہم
    11. الْاَرْضَزمین
    12. اَوْ نُسْقِطْیا گرا دیں
    13. عَلَيْهِمْان پر
    14. كِسَفًاٹکڑا
    15. مِّنَ السَّمَآءِ ۭآسمان سے
    16. اِنَّبیشک
    17. فِيْ ذٰلِكَاس میں
    18. لَاٰيَةًالبتہ نشانی
    19. لِّكُلِّلیے۔ ہر
    20. عَبْدٍبندہ
    21. مُّنِيْبٍرجوع کرنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا انہوں نے اپنے آگے اور پیچھے آسمان و زمین پر نظر ڈالی ! اگر ہم چاہیں تو ان کے سمیت زمین کو دھنسا دیں یا ان پر آسمان سے ٹکرے گرادیں ! بیشک اس کے اندر ہر اس بندے کے لئے بہت بڑی نشانی ہے جو متوجہ ہونے والا ہو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
افلم یروا الی مابین ایدھیم وما خلفھم من السماء والارض ان نشا نخف بھم الارضی او نسقط علیھم کسفا من السماء ان فی ذلک لایۃ تکل عبد منیب (9) اس مجموعہ آیات کی پہلی آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے مجموعہ کے آخر میں اسی مضمون کا ایک نئے اسلوب سے اعادہ ہے۔ پہل آیت میں فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے اس وجہ سے دنیا میں بھی شکر کا حقیقی سزاوار وہی ہے اور آخرت میں بھی اسی کی حمد ہوگی۔ یہاں فرمایا کہ کیا ان متکبرین نے اس حقیقت پر کبھی غور نہیں کیا کہ یہ آسمان جو ان کے سروں پر شامیانے کی طرح تنا ہوا ہے اور یہ زمین جو ان کے قدموں کے نیچے فرش کی طرح بچھی ہوئی ہے اور جن کے فوائد و برکات سے یہ متمع ہو رہے ہیں، یہ ان کے تھامے ہوئے نہیں تھمے ہیں بلکہ ان کو اللہ ہی نے تھام رکھا ہے ؟ اگر اللہ نے ان کو نہ تھام رکھا ہوتا تو یہ دونوں ان کے لئے نعمتوں کے بجائے نعمتوں کا ذریعہ بن جاتے۔ فرمایا کہ ہ جب چاہیں ان کے سمتی زمین کو دھنسا دیں اور جب چاہیں اسی آسمان سے ابررحمت برسانے کے بجائے ان پر پتھر برسا دیں۔ اس کائنات کی کوئی چیز بھی انسان کو بالاضطرز نفع نہیں پہنچا رہی ہے بلکہ خدا کے حکم سے پہنچا رہی ہے اور کوئی چیز بھی براہ راست انسان کے اختیار میں نہیں ہے بلکہ خدا کے حکم سے وہ اس کی نفع رسانی میں سرگرم ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے جو انسان پر واجب کرتی ہے کہ وہ کسی نعمت پر اترائے نہیں بلکہ اپنے اس رب کا شکر گزار رہے جس نے اس کو یہ نعمت بخشی ہے اور اس کو خدا کی نافرمانی اور اس سے بغاوت کا ذریعہ بنانے کے بجائے اس کو اسی کی خوشنودی اور فرمانبرداری میں استعمال کرے۔ یہی مضمون آگے والی سورة … سورة فاطر، میں، جو اس کا مثنی ہے، یوں ارشاد ہوا ہے :۔ ان اللہ یمسک السموات والارض ان تزولا ولئن زالتا ان امسکھمامن احد من بعدہ انہ کان حلیما غفورا (فاطر : 41) بے شک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ لڑھک نہ جائیں اور اگر وہ دونوں لڑھک جائیں تو کسی کی تاب نہیں کہ وہ خدا کے چھوڑ دینے کے بعد ان کو تھام سکے۔ بیشک وہ نہایت بردبار اور بخشنے والا ہے۔ ’ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب ‘ یعنی آسمانوں اور میں کے اس پہلو پر اگر غور کرتے تو اس کے اندر اس بات کی بہت بڑی دلیل موجود ہے جس کی قرآن ان کی دعوت دے رہا ہے لیکن اس دلیل تک رسائی کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر حقیقت کی طلب، عبرت پذیری کی صلاحیت اور متوجہ ہونے والا دل ہو۔ جن کے اندر یہ اوصاف نہ ہوں ان کے لئے کوئی نشانی بھی کارگر نہیں ہوسکتی۔