تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 18
وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ﴿18﴾
- وَجَعَلْنَااور ہم نے ( آباد) کردیے
- بَيْنَهُمْان کے درمیان
- وَبَيْنَاور درمیان
- الْقُرَىبستیاں
- الَّتِيْوہ جنہیں
- بٰرَكْنَاہم نے برکت دی
- فِيْهَااس میں
- قُرًىبستیاں
- ظَاهِرَةًایک دوسرے سے متصل
- وَّقَدَّرْنَااور ہم نے منفرد کردیا
- فِيْهَا السَّيْرَان میں آمد و رفت
- سِيْرُوْاتم چلو (پھرو)
- فِيْهَاان میں
- لَيَالِيَراتوں
- وَاَيَّامًااور دنوں
- اٰمِنِيْنَامن سے (ب خوف و خطر)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے ان کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان، جن میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں، سرراہ بستیاں بھی آباد کیں اور ان کے درمیان سفر کی منزلیں ٹھہرا دیں۔ ان میں رات دن بےخوف و خطر سفر کر و
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وجعلنا بیھم وبین القری التی برکتا فیھا قری ظھرۃ وقدرنا فیھا البر سیروا فیھا لیالی وایا ما امنین
’ القری التی برکنا فیھا ‘ سے ملک شام وغیرہ کی طرف اشارہ ہے جن کے ساتھ اہل سبا کے تجارتی تعلقات تھے۔ یہ ملک بہت زرخیز تھے اس وجہ سے اس کی صفت ’ برکنا فیھا ‘ آئی ہے۔ زرخیز مال سے تجارتی تعلقات بجائے خود آمدنی اور رفاہیت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
قری ظھرۃ سے مراد وہ شہر اور قصبات ہیں جو اس شاہرہ پر واقع تھے جس کے دونوں جانب باغوں کی قطاریں تھیں۔ یعنی ان بستیوں کے علاوہ جو اندروںِ ملک واقع تھیں موزوں فاصلوں سے اس شاہراہ پر بھی بستیاں آباد تھیں جو ان کے لئے منزلوں کا کام دیتی تھیں۔ وہ ان میں بےخوف و خطرٹھہرتے، آرام کرتے اور پھر آگے کی منزل کے لئے سفر کرتے۔
’ وقد رنا فیھا السیر ‘ یعنی یہ بستیاں ایسے مناسب فاصلوں پر واقع تھیں کہ گویا قدرت نے خود اپنے اہتمام سے ان کے لئے منزلیں مقرر کردی تھیں۔
’ سیروا فیھا لیا لی وایاما امنین ‘۔ یہ ان آسائشوں کی زبان حال کی تعبیر ہے کہ قدرت نے یہ سارا اہتمام کرکے گویا ان کے لئے ہر منزل پر یہ کتبہ لگا یا کہ تمہاری خاطر یہ اہتمام ہم نے اس لئے کیا ہے کہ تم راتوں میں بھی اور دنوں میں بھی بےخوف و خطر سفر کرسکو۔ یہاں اتنی بات حذف ہے کہہ اور اپنے اس رب کے شکرگزار رہو جس نے تمہارے لئے یہ سرا اہتمام کیا ہے۔ اس کو حذف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہر انعام کا یہ فطری تقاضا ہے اور اوپر آیت 15 میں اس کا بیان ہوچکا ہے۔ اس وجہ سے اس کو دہرانے کے بجائے بعد والی آیت میں ان کے اس رویہ کی طرف اشارہ فرما دیا جو انہوں نے اختیار کیا اور جس کے نتیجہ میں وہ ان تمام نعمتوں سے محروم ہوئے۔
یہاں یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام آسائشوں اور رفاہیتوں کے اہتمام کو براہ راست اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ یہ حقیقت نفس الامری کا بیان ہے کہ اس دنیا میں انسان کو جو فتوحات بھی حاصل ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضلہی سے حاصل ہوتی ہیں۔ لیکن انسان اپنی ناشکری کے باعث ہر چیز کو اپنی سعی و تدبیر کا کرشمہ سمجھنے لگتا ہے۔ اس زمانے کی عام گمراہی کا اصلی سبب انسان کو یہی بےبصیرتی ہے اور سائنس کی ایجادات نے اس غرور میں اتنا اضافہ کردیا ہے کہ اب اللہ ہی اس کو دور کرسکتا ہے۔
فقالو ربنا بعد بین اسفارنا وظلموا انفسھم فجعلنھم احادیث ومزقنھم کل ممزق ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (19)
یہ ان کے زبان قال کی نہیں بلکہ زبان حال کی تعبیر ہے کہ انہوں نے یہ رفاہتیں پاکر رویہ جو اختیار کیا اس سے یہ ظاہر کردیا کہ وہ ان آسائشوں کے حقدار نہیں ہیں بلکہ اس بات کے سزاوار ہیں کہ ان کی بستیاں ویران ہوجائیں، ان کی منزلیں کٹھن ہوجائیں اور ان کی یہ ساری رفاہتیں ان سے چھین لی جائیں۔ زبانِ حال کی تعبیرات کی مثالوں کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی نظیریں پیچھے گزر چکی ہیں اور یہ حقیقت بھی ہم واضح کرچکے ہیں کہ اصل شہادت زبان حال ہی کی ہوتی ہے نہ کہ زبان قول کی۔ یہود کا قول ’ سمعنا وعصینا ‘ بھی ان کے حال ہی کی تعبیر ہے۔
’ وظلموا انفسھم ‘ یعنی انہوں نے خدا کی ناشکری و نافرمانی کی اور اس طرح خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھائے کہ خدا کے قہر و غضب کو دعوت دی۔ خدا کا انہوں نے کھچ نہیں بگاڑا۔
فجعلنھم احادیث ومزقنھم کل ممزق ‘۔ یہ ان کی ناشکری کا انجام بیان ہوا ہے کہ بالآخر وہ اس طرح پامال ہوئے کہ حاضر کے صفحہ سے مٹ کر صرف ماضی کی ایک داستانِ پارینہ بن کے رہ گئے۔ ومزقنھم کل ممزق، یقنی جو سیلاب کی آفت سے بچے بھی وہ بھی ملک کی معیشت برباد ہوجانے کے باعچ بالکل پراگندہ ہوگئے۔ کوئی کہیں گیا، کوئی کہیں۔
ان فی ذلک لایت یکل مسار شکور۔ اور آیت 17 میں جس طرح اس سرگزشت کے اصل سبق کی طرف وھل نجزی الا الکفور سے توجہ دلائی ہے اسی طرح یہاں اسی حقیقت کی طرف لایت لکل سبار شکور۔ کے الفاظ سے توجہ دلائی ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اہل سبا کی سرگزشت یہاں دو مرتبہ (ہرائی گئی ہے اور دنوں مرتبہ کے عبرت انگیز انجام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ پہلے ان کے علاقے کی زرخیز و شادابی کے ذکر کے بعد ان کی ناشکری اور اس کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا پھر ان کی تمدنی و تجارتی ترقیوں کے ذکر کے بعد ان کے کفرانِ نعمت کے نتیجہ میں ان کے انتشار کی طرف۔ یہ اسلوب بیان اس بےاختیار فرمایا گیا ہے کہ اصل مقصود جس کے لئے یہ سرگزشت سنائی جا رہی ہے، نگاہوں سے اوجل نہ ہونے پائے۔ قرآن میں اس سلوب بیان کی متعدد نہایت بلیغ مثالیں موجود ہیں۔
’ صبر ‘ اور ’ شکر ‘ دونوں اقوام ہیں۔ یہ دونوں بیک وقت مطلوب ہیں۔ جس کے اندر صبر نہ ہو وہ شکر کا حق ادا نہیں کرسکتا اور جس کے اندر شکرنہ ہو وہ صبر نہیں کرسکتا اور اس دنیا کے دار الامتحان میں ہر قدم پر بندے کا امتحان ان دونوں ہی چیزوں میں ہوتا رہتا ہے اور اسی امتحان پر اس کی اخروی کا میابی و ناکامی کا انحصار ہے۔ فرمایا کہ اس سرگزشت میں صبرو شکر کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ مثلاً
٭اس دنیا میں جو نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہوتی ہیں اس وجہ سے ان کو پا کر غرور میں مبتلا ہونے کے بجائے انسان کو اپنے رب کا شکر گزار اور اس کا فرمانبردار رہنا چاہیے۔
٭ جو نعمتیں بھی ملتی ہیں وہ کسی استحقاق کی بنا پر نہیں بلکہ امتحان کے طور ملتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو دے کر دیکھتا ہے کہ اس کے بندے اس کے شکر گزار رہتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں۔
٭اس امتحان میں جو قومیں ناکام ہوجاتی ہیں وہ قومی حیثیت سے اس دنیا میں اس کا انجام دیکھ لیتی ہیں۔ آخرت میں ہر شخص کے سامنے انفرادی حیثیت سے اس کا انجام آئے گا۔