تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 20
وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿20﴾
- وَلَقَدْاور البتہ
- صَدَّقَسچ کر دکھایا
- عَلَيْهِمْان پر
- اِبْلِيْسُابلیس
- ظَنَّهٗاپنا گمان
- فَاتَّبَعُوْهُپس انہوں نے اس کی پیروی کی
- اِلَّاسوائے
- فَرِيْقًاایک گروہ
- مِّنَسے۔ کا
- الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ابلیس نے ان کے اوپر اپنا گمان سچ کر دکھایا۔ سو انہوں نے اس کی پیروی کی۔ صرف اہل ایمان کا ایک گروہ اس سے بچ سکا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولقدصدق علیھم ابلیس ظنہ فاتبعوہ الافریقا من المومنین (20)
یہ ابلیس کے اس گمان کی طرف اشارہ ہے جس کا اظہار اس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اس وقت کیا تھا جب آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا اس کو حکم دیا گیا اور اس نے اس کی تعمیل سے انکار کیا۔ اس وقت اس نے یہ کہا تھا کہ میں اولادِ آدمی پر اس طرح گھیرے ڈالوں گا کہ ان کی اکثریت تیری جگہ میری پیروی کرے گی قلن تجد اکثرھم شکرین (الاعراف : 17) اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہیں پائے گا)۔ یہاں اس کا حوالہ دینے سے مقصود اس کے انجام کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ جب انہوں نے اپنے بارے میں ابلیس کے گمان کی سچا ثابت کردیا تو لازماً ان کے سامنے اس کا انجام بھی آیا اور آئے گا۔ یعنی اس دنیا میں یہ سیلاب کے عذاب سے دو چار ہوئے اور آخرت میں یہ جہنم کے عذاب میں جھونک دیے جائیں گے۔ قرآن میں جہاں ابلیس کی مذکورہ بالا دھمکی کا ذکر ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ جواب بھی مذکور ہے کہ جو تیری پیروی کریں گے، خواہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، میں ان سب کو جہنم میں بھرودوں گا۔ ‘
’ الافریقا من المومنین ‘ پیچھے سورة نحل کی آیت 113 کے حوالہ سے ہم ذکر کر آئے ہیں کہ اہل سبا کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک رسول بھی بھیجا تھا۔ اس آیت سے واضح ہوا کہ ان کی اکثریت نے اس رسول کی تکذیب کردی۔ صرف تھوڑے سے لوگ ان پر ایمان لائے اور وہی اس عذاب سے محفوظ رہے جو ان کی قوم پر آیا۔