Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 21

  1. وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ع﴿21﴾

    1. وَمَا كَانَاور نہ تھا
    2. لَهٗاسے (ابلیس کو)
    3. عَلَيْهِمْان پر
    4. مِّنْ سُلْطٰنٍکوئی غلبہ
    5. اِلَّامگر
    6. لِنَعْلَمَتاکہ ہم معلوم کرلیں
    7. مَنْ يُّؤْمِنُجو ایمان رکھتا ہے
    8. بِالْاٰخِرَةِآخرت پر
    9. مِمَّنْاس سے جو
    10. هُوَوہ
    11. مِنْهَااس سے
    12. فِيْ شَكٍّ ۭشک میں
    13. وَرَبُّكَاور تیرا رب
    14. عَلٰيپر
    15. كُلِّ شَيْءٍہر شے
    16. حَفِيْظٌنگہبان
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس کو ان کے اوپر کوئی اختیار حاصل نہ تھا۔ بس یہ ہم ممیز کردیں انلوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے جو اس کی بابت شک میں ہیں اور تمہارا رب ہر چیز کا نگران ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وما کان لہ علیھم من سلطن الالنعلم من یومن بالاخرۃ ممن ھو منھا فی شلف وربک علی کل شئی حفیظ (21) یہ ایک دفع دخل مقدر یعنی برسر موقع ایک شبہ کا اذالہ کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ مبتلا رہے کہ شیطان کو لوگوں پر کوئی اختیار حاصل ہے کہ وہ جس کو چاہے گمراہ کردے۔ فرمایا کہ شیطان کو اس طرح کا کوئی اختیار اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر نہیں دیا ہے۔ اس کو صرف اس بات کی مہلت ملی ہے کہ وہ لوگوں کو بدی کے راستہ کی دعوت دے سکتا ہے اور یہ مہلت اس کو اسے لئے دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ کون آخرت پر ایسا مضبوط ایمان رکھتا ہے کہ شیطان کی ترغیبات کے باوجود دبائو حق پر استوار رہتا ہے اور کو شک میں مبتلا ہے کہ شیطان کے بہکانے سے اس کی راہ پر لگ جاتا ہے۔ لنعلم سے پہلے کوئی فعل انظر تاہ یامھلنا ہ ‘ کے معنی میں مخدوف اور اس قسم کے حذف کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ ’ وربک علی کل شئی حفیظ ‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس رزم گاہ امتحان میں شیطان اور انسان کو اتار کو خود الگ تھلگ ہو کر نہیں بیٹھ رہا ہے بلکہ ہر چیز کی نگرانی کر رہا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ شیطان اپنے حدود سے متجاوز ہوسکے اور ممکن نہیں ہے کہ انسان پنی کسی داد رسی سے محروم رہ جائے۔ اگر انسان اپنا فرض اپنے امکان کی حد تک ادا کرنے کی کوشش کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس دنیا میں بھی مدد فرمائے گا اور آخرت میں بھی اس کی ہر سعی کا بھرپور صلہ دے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان اور اس کی ذریات کے غلبہ سے مایوس ہو کر ادائے فرض سے دستکش ہونا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مہلت تو ضروری دی ہے لیکن اپنی دنیا اس کے حوالے نہیں کردی ہے۔ بلکہ ہر چیز کی نگرانی وہ خود فرما رہا ہے۔