تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 22
قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ﴿22﴾
- قُلِفرمادیں
- ادْعُواپکارو
- الَّذِيْنَان کو جنہیں
- زَعَمْتُمْگمان کرتے ہو
- مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۚاللہ کے سوا
- لَا يَمْلِكُوْنَوہ مالک نہیں ہیں
- مِثْقَالَ ذَرَّةٍایک ذرہ کے برابر
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَلَااور نہ
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- وَمَااور نہین
- لَهُمْان کا
- فِيْهِمَا مِنْ شِرْكٍان ( آسمان و زمین) میں کوئی ساجھا
- وَّمَا لَهٗاور نہیں اس (اللہ) کا)
- مِنْهُمْان میں سے
- مِّنْ ظَهِيْرٍکوئی مددگار
Translation · Tadabbur-e-Quran
بلائو ان کو جن کو تم نے خدا کے سوا معبود گمان کر رکھا ہے ! وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں۔ اور نہ ان دونوں میں ان کا کوئی ساجھا ہے اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مددگار ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 22۔ 27
اوپر کی آیات میں یہ حقیقت واضح فرمائی کہ تمام رحمت و نقمت اللہ ہی کیا ختیار میں ہے اس وجہ سے شکر گزاری اور بندگی کا حقیقی سزوار وہی ہے۔ اب آگے مشرکین کو چیلنج کیا ہے کہ تم اپنے جن معبودوں کو خدا کا شریک بنائے بیٹھے اور ان کی سفارش کی امید پر خدا کی پکڑے سے بےفکر ہو، ان کے حق میں کوئی دلیل اپنے پاس رکھتے ہو تو اس کو پیش کرو۔ ساتھ ہی پیغمبر ﷺ کی زبان سے یہ اعلان کرایا ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، محض جد اور مکابرت کی وجہ سے اپنی بات پر اڑے ہوئے ہو، تو تمہارے ساتھ بحث میں ہم اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے بلکہ معاملہ اللہ کے حوالہ کرتے ہیں۔ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
قل ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ، لا یملکون مثقال ذرۃ فی السموات ولا فی الارض وما لھم فیھا من شرک وما لہ منھم من ظھیر (22)
یہ مشرکین کو کھلا ہوا چیلنج ہے کہ جن کو تم نے خدا کا شریک گمان کر رکھا ہے ذرا ان کو بلائو، ہم بھی ان کی صورت میں دیکھیں وہ کیسے اور کہاں ہیں ! اس قسم کا چیلنج مخاطب کو اس وقت دیا جاتا ہے جب اس کا دعویٰ بالکل ہی بےسروپار ہوا اور ہر پہلو سے اس پر حجت تمام کی جاچکی ہو۔ یہی اندازِ خطاب آگے آیت 27 میں ہے۔ قل ارونی الذین الحتم بہ شرکاء کلا۔ بل ھوا للہ العزیزا لحکیم (ان سے کہو، ذرا مجھے انکو دکھائو جن کو تم نے شریک بنا کر خدا کے ساتھ جوڑ رکھا ہے ! ہرگز نہیں ! بلکہ وہ اللہ عزیز و حکیم ہے)۔
لا یملکون مثقال ذرۃ فی السموات ولا فی الارض۔ یہ اسی چیلنج کی مزید وضاحت ہے کہ تم نے ان کو شریک خدا گمان کر رکھا ہے حالانکہ نہ وہ آسمانوں میں ذرا برابر کوئی اختیار رکھتے نہ زمین میں۔ یہی بات اسی سورة کی پہلی ہی آیت میں اس طرح واضح فرمائی گئی ہے۔ لہ فی السموات وما فی الارض (اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے)۔
’ وما لھم فیھما من شرک ‘ یعنی ان دونوں کی خلقت میں ان کا کوئی بھی ساجھا نہیں ہے۔ دوسرے مقام میں فرمایا ہے : وما اشھدتھم خلق السموات والارض (الکہف : 51) میں نے آسمانوں اور زمین کی خلقت کے وقت ان میں سے کسی کو نہیں بلایا کہ ذرا برابر وہ میرا ہاتھ بٹائیں)۔
’ وما لہ منھم من ظھیرا ‘۔ یعنی زمین و آسمان کے اتنظام و انصرام میں بھی خدا نے ان میں سے کسی کو اپنا معین و مددگار نہیں بنایا ہے بلکہ اپنی ساری خدائی کا انتظام تنہا وہ خودہی سنبھالے ہوئے ہے ‘ اور یہ چیز ذرا بھی اس پر بار نہیں ہے۔ یہ مشرکین کے اس وہم کی تردید ہے کہ زمین چونکہ خدا کی مملکت کا نہایت دور دراز علاقہ ہے اس وجہ سے اس کا انتظام اس نے اپنے دوسرے شریکوں کے سپرد کر رکھا ہے۔