تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 28
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿28﴾
- وَمَآاور نہیں
- اَرْسَلْنٰكَآپ کو بھیجا ہم نے
- اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِمگر تمام لوگوں (نوع انسانی) کے لیے
- بَشِيْرًاخوشخبردی دینے والا
- وَّنَذِيْرًااور ڈر سنانے والا
- وَّلٰكِنَّاور لیکن
- اَكْثَرَ النَّاسِاکثر لوگ
- لَا يَعْلَمُوْنَنہیں جانتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے تو تم کو سب لوگوں کے واسطے بس بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جان رہے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
6۔ 1ٓگے کا مضمون۔ آیات 28۔ 39
آگے کی آیات میں مخالفین کے ان مطالبات و اعتراضات سے تعرض فرمایا ہے جو وہ قرآن کی دعوت اور اس کے انداز کی تکذیب کے لئے پیش کر رہے تھے۔ اعتراجات و مطالبات کے جواب بھی دیے ہیں اور اس انجام کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس سے وہ لوگ لازماً دو چار ہوں گے جو ان لاطائل اعتراضات و شبہات کی آڑلے کر حقیقت کو جھٹلائیں گے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا و نذیرا ولکن اکثر الناس لا یعلمون (28)
یہ اظہور افسوس ہے ان لوگوں کی حالت پر جو قرآن کی دعوت توحید اور اس کے انداز عذاب و قیامت کی تکذیب کے لئے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے تاکہ اس طرح آنحضرت ﷺ کو زچ کرسکیں۔ فرمایا کہ ہم نے تم کو عذاب لانے والا نہیں بلکہ لوگوں کے لئے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے کہ تم ان لوگوں کو نجات اور رحمت کی بشارت دے دو جو تمہاری دعوت پر ایمان لا کر ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرلیں گے۔ اور ان لوگوں کو خدا کے اس قہر وغضب سے آگاہ کردو جس سے تمہاری تکذیب کی صورت میں ان کو لازماً سابقہ پیش آئے گا۔ تمہاری ذمہ داری اس انداز و بشارت کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ عذاب لانے یا نہ لانے کا معاملہ ہم سے متعلق ہے۔ جب اس کا وقت آجائے گا تو ہم یہ چیز بھی ان کو دکھا دیں گے۔
’ ولکن اکثر الناس لا یعلمون ‘۔ یہ لوگوں کو بدبختی پر اظہارِ افسوس ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو عذاب سے پہلے ایک آگاہ کرنے والا بھیج دیا کہ لوگ چاہیں تو ایمان و عملِ صالح کی زندگی اختیار کر کے اپنے لئے ابدی رحمت کی ضمانت حاصل کرلیں، لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ رحمت کی جگہ عذاب ہ کے طالب ہیں۔ ان کو اس حقیقت کی خبر نہیں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کی طرف رسول بھیج دیتا ہے تو اس پر اللہ کی حجت تمام ہوجاتی ہے۔ اگر وہ قوم رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو سنت الٰہی کے بموجب وہ لازماً تباہ کر دیجاتی ہے۔ آگے وای سورة ، سورة فاظر میں اس حقیقت کی وضاحت یوں فرمائی گئی ہے :
ان انت الا نذیر انا ارسلنک بالحق بشیرو ونذیرا۔ وان من امۃ الا خلافیھا نذیر وان یکذبوک فقد کذب الذین من قبلھم جاء تھم رسلھم بالبینت وبالزبر والکبت المنیر ثم اخذت الذین کفروا فکیف کان نکیر (23۔ 26)
تم تو بس ایک آگاہ کردینے والے ہو۔ ہم نے تو تم کو حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی ہے جس میں ایک نذیر نہ آیا ہو۔ اور اگر یہ تم کو جھٹلاتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں انہوں نے بھی جھٹلایا۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں، صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے۔ پھر میں نے ان لوگوں کو پکڑا جنہوں نے کفر کیا تو دیکھو کیسی ہوئی میری پھٹکار۔
اس آیت میں کا نۃ للناس کے الفاظ بھی قابل غور ہیں۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے جو رسول آئے وہ صرف اپنی اپنی قوموں ہی کے لئے نذیر بن کر آئے لیکن آنحضرت ﷺ چونکہ خاتم الانبیاء وخاتم الرسل ہیں۔ اس وجہ سے آپ کی بعثت تمام خلق کی طرف ہوئی۔ یہ حقیقت قرآن میں بھی مختلف پہلوئوں سے واضح فرمائی گئی ہے اور سابق صحیفوں میں آپ کی نسبت جو پیشن گوئیاں وارد ہیں، انمیں بھی آپ کی یہ حیثیت نمایاں ہے۔ ان کے حوالے سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم نقل کر آئے ہیں۔ یہاں اس بات کی یاد دہانی سے مقصود اہل کتاب کو متنبہ کرنا ہے۔ دعوت کے اس دور میں انہوں نے بھی دپردہ قریش کی پشت پناہی شروع کردی تھی۔ اس وجہ سے آنحضرت ﷺ کی اس صفت کا حوالہ دے کر ان کو بھیآگاہ کردیا گیا کہ جس رسول کی مخالفت میں وہ اپنی ذہانت و قابلیت صرف کر رہے ہیں وہ صرف قریش ہی کے لئے منذر و مبشربن کر نہیں آیا ہے بلکہ اس کے ذریعے سے خود ان کی قسمت کا بھی فیصلہ ہونا ہے اس وجہ سے اگر وہ یہ خطرناک کھیل کھیلنا چاہتے ہیں تو اس کے نتائج بہت دور تک سوچ لیں۔