Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 27

  1. قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿27﴾

    1. قُلْفرمادیں
    2. اَرُوْنِيَمجھے دکھاؤ
    3. الَّذِيْنَوہ جنہیں
    4. اَلْحَقْتُمْتم نے ساتھ ملا دیا ہے
    5. بِهٖاس کے ساتھ
    6. شُرَكَآءَشریک
    7. كَلَّا ۭہرگز نہیں
    8. بَلْبلکہ
    9. هُوَ اللّٰهُوہ اللہ
    10. الْعَزِيْزُغالب
    11. الْحَكِيْمُحکمت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہو، ذرا مجھے انکو دکھائو تو جن کو تم نے شریک بنا کر اس کے ساتھ جوڑ رکھا ہے ! ہرگز نہیں ! بلکہ وہ اللہ عزیز و حکیم ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل ارونی الذین الحتم بہ شرکاء کلا بل ھو اللہ العزیز الحکیم (27) وہی مضمون جو اس مجموعہ آیات کی پہلی آیت میں آیا ہے آخر میں دوسرے اسلوب سے پھر ارشادہوا ہے۔ اس کا انداز طنز و تحقیر اور تہدید و وعید کا ہے۔ فرمایا کہ ان سے کہو کہ ذرا مجھے ان کو دکھائو تو سہی جن کو تم نے شریکوں کی حیثیت سے خدا کے ساتھ چپکارکھا ہے ! آخر وہ کون اور کہاں ہیں جو ایسے عالی مقام ہیں کہ وہ خدا کی خدائی میں ساجھی بنا دیے گئے ہیں ! ’ کلا بل ھو اللہ العزیزا الخکیم ‘ سوال کے بعد خودہی اس کا جواب دے دیا کہ ہرگز نہیں ! کسی کا بھی یہ درجہ و مرتبہ نہیں ہے کہ اس کو خدا کا شریک قرر دیاجاسکے۔ اس کے بعد اس نفی کی دلیل اللہ تعالیٰ کی مسلمہ صفات سے دی ہے۔ فرمایا کہ وہ ’ عزیز ‘ و ’ حکیم ‘ ہے۔ ’ عزیز ‘ یعنی سب کی رسائی سے بالاتر اور ہر چیز پر غالب و مقتدر۔ ’ حکیم ‘ یعنی اس کا ہر فعل غایب و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ ان صفات کا ذکر حصر کے اسلوب میں فرمایا ہے یعنی وہ ان صفات سے کمال درجہ متصف ہے اور جب وہ ان سے کمال درجہ متصف ہے تو ان کے ساتھ شرک کا کوئی جوڑ نہیں ہے اس لئے کہ اگر کسی کو اس کا شریک اس پہلو سے مانا جائے کہ اس کائنا تکے خلق وتدبیر میں خدا اس کا محتاج ہے تو یہ اس کے ’ عزیز ‘ ہونے کی نفی ہے اور اگر اس پہلو سے مانا جائے کہ کوئی اپنی رسائی و تقرب سے اس کے بےلاگ عدل پر اثر انداز ہوسکتا ہے تو یہ اس کے ’ حکیم ‘ ہونے کی نفی ہوئی۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ مشرکین کے شرک میں اصلی عامل کی حیثیت انہی دونوں غلط فہمیوں کو حاصل تھی۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی ان دونوں صفتوں کا حوالہ دے کر ان دونوں غلط فہمیوں کی بنیاد ڈھادی۔