Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 30

  1. قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ع﴿30﴾

    1. قُلْفرمادیں
    2. لَّكُمْتمہارے لیے
    3. مِّيْعَادُوعدہ
    4. يَوْمٍایک دن
    5. لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَنہ تم پیچھے ہٹ سکتے ہو
    6. عَنْهُاس سے
    7. سَاعَةًایک گھڑی
    8. وَّلَااور نہ
    9. تَسْتَقْدِمُوْنَتم آگے بڑھ سکتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
انکو بتا دو کہ تمہارے لئے ایک خاص دن کی میعاد مقرر ہے جس سے نہ ذرا پیچھے ہٹو گے اور نہ آگے بڑھو گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل کم میعاد یوم لا تستاخرون عنہ ساعۃ ولا تستقدمون (30) فرمایا کہ ان کو جواب دے دو کہ اس چیز کے لئے جلدی نہ مچائو۔ اس کیظہور کے لئے ایک خاص وقت مقرر ہے۔ جب وہوقت آجائے گا تو پھر نہ تو اس سے پیچھے ہٹ سکوگے اور نہ آگے ہی بڑھ سکو گے۔ یہ حقیقت ہم جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں اور باغیوں کو بھی اتنی مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں تاکہ ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے اور یہ بات صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کسی قوم کو پیمانہ کب لبریز ہوا۔ اس بھید سے اللہ کا رسول بھی واقف نہیں ہوتا۔ لفظ ’ یوم ‘ یہاں وقت کے مفہوم میں ہے اور لفظ ’ ساعۃ ‘ لمحۃ، پل اور وقت قلیل کے مفہوم میں۔ اس اسلوبِ بیان کے اندر سوال کرنے والوں کے طنز کے جواب میں یہ طنز بھی مضمر ہے کہ آخر کس برتے پر اس عذاب کا وقت معلوم کرنا چاہتے ہو، وہ اٹل وقت جب آجائے گا تو پھر کسی کے ٹالے نہ ٹل سکے گا !