تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 39
قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ﴿39﴾
- قُلْفرمادیں
- اِنَّبیشک
- رَبِّيْمیرا رب
- يَبْسُطُوسیع فرماتا ہے
- الرِّزْقَرزق
- لِمَنْ يَّشَآءُجس کے لیے وہ چاہتا ہے
- مِنْ عِبَادِهٖاپنے بندوں میں سے
- وَيَقْدِرُاور تنگ کردیتا ہے
- لَهٗ ۭاس کے لیے
- وَمَآاور جو
- اَنْفَقْتُمْتم خرچ کرو گے
- مِّنْ شَيْءٍکوئی شے
- فَهُوَتو وہ
- يُخْلِفُهٗ ۚاس کا عوض دے گا
- وَهُوَاور وہ
- خَيْرُبہترین
- الرّٰزِقِيْنَرزق دینے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو ، میرا رب ہی ہے جو رزق کو کشادہ کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے اس کے لئے (اگر چاہتا ہے) اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کرو گے تو وہ اس کا بدلہ دے گا اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل ان ربی یبط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویْدرلہ وما النفقتم من شئی فھو یخلفہ وھو خیر الرزقین (39)
اس آیت کی تمہید اور اوپر کی آیت 36 کی تمہید بعینہ ایک ہی ہے لیکن دونوں جگہ مدعا الگ الگ ہے۔ اوپر کی آیت میں یہ واضح فرمایا ہے کہ رزق کی کشادگی و تنگی تمام تر اللہ تعالیٰ کے اختیار پر ہے اس وجہ سے نہ اس کی کشادگی پر کسی کو اترانے کا حق ہے اور نہ اس کی تنگی سے کسی کو مایوس ہونا جائز ہے، بلکہ ہر شخص کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ یہ دونوں حالتیں اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت پیش آتی ہیں اور دونوں سے وہ اپنے بندوں کے شکر یا صبر کا امتحان کرتا ہے۔ اس آیت میں پیغمبر ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی کہ ان مترفین کو یہ بتادو کہ اللہ کے بخشے ہوئے رزق و فضل پر اکڑنے کے بجائے اس کو خدا کی خوشنودی کے کاموں میں صرف کریں کہ یہی شکر کا تقاضا ہے اور وہ اطمینان رکھیں کہ جو کچھ بھی وہ خدا کی راہ میں خرچ کریں گے وہ ضائع جانے والا نہیں ہے، بلکہ وہ چھوٹے سے چھوٹے انفاق کا بھی بھرپور صلہ دے گا۔ اوپر صلہ کے معاملے میں جزاء الضعف کا اصول بیان ہوچکا ہے اور اس کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔ آیت میں وما انفقتم کے بعد فی سبیل اللہ کے الفاظ و ضاحت قرینہ کی بنا پر حذف ہیں۔ اخلف اللہ علیک کے معنی ہوں گے رد علیک ما ذھب تمہاری گئی ہوئی چیز خدا نے تمہیں لوٹا دی)۔
وھم خیر الرزقین یعنی خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بہترین رزق دینے والا ہے۔ آج وہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ ان کے خرچ کیے ہوئے خزف ریزوں کے عوض میں کل وہ ان کو کیا کچھ بخش سکتا ہے اور کیا کچھ بخش دے گا۔ لفظ خیر یہاں ترجیح و تفضیل کے مفہوم میں نہیں بلکہ مطلق بیان صفت کے لئے ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔