تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 40
وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ﴿40﴾
- وَيَوْمَاور جس دن
- يَحْشُرُهُمْوہ جمع کرے گا ان کو
- جَمِيْعًاسب
- ثُمَّ يَقُوْلُپھر فرمائے گا
- لِلْمَلٰٓئِكَةِفرشتوں کو
- اَهٰٓؤُلَآءِکیا یہ لوگ
- اِيَّاكُمْتمہاری ہی
- كَانُوْا يَعْبُدُوْنَپرستش کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس دن کو یاد رکھو جس دن وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا پھر فشتوں سے پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری پرستش کرتے رہے ہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
8۔ آگے کا مضمون۔ آیات۔ 40۔ 45
آگے مترفین کو متنبہ کیا ہے کہ تم فرشتوں کو معبود بنا کر ان کی پرستش کر رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ آخرت کا مرحلہ یش آیا تو وہ تمکو بچا لیں گے حالانکہ آخرت میں وہ تم سے اعلان براءت کری گے اور خدا کے عذاب سے تم کو کوئی بچانے والا نہیں بنے گا۔ یہ اللہ نے تم پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے کہ تمہیں آگاہ کرنے کے لئے رسول بھیجا ہے لیکن تم بدبختی کے سبب سے اس کے کلام کو سحر قرار دے رہے ہو۔ بہتر ہے کہ ماضی کی قوموں کے انجام سے سبق لو۔ ان کو جو کچھ حاصل ہوا اس کا عشر عشیر بھی تم حاصل نہیں کر پائے ہو لیکن جب وہ اللہ کی پکڑ میں آگئے تو پھر کوئی بھی ان کو پناہ دینے والا نہ بن سکا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
9۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 40
’ جمیعا کی تاکید اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ قیامت کے دن کفار و مشرکین بھی اکٹھے کیے جائیں گے اور ان کے خلاف گواہی دلوانے کے لئے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی اکٹھا کرے گا جن کی عبادت کے وہ مدعی رہے ہوں گے یا جن کی طرف انہوں نے اپنی بدعات منسوب کی ہوں گی۔ سورة مائدہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی شہادت کا ذکر گزر چکا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ان تمام بدعات سے اپنی براءت کا علان کریں گے جو ان کے وجدان کے متبدع پیروئوں نے ایجاد کی ہوں گی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں کو بھی اکٹھا کرکے ان سے سوال کرے گا کہ یہ مشرکین (اشارہ مشرکین عرب کی طرف ہے) مدعی ہیں کہ یہ تمہاری عبادت کرتے رہے ہیں تو کیا ان کا یہ دعویٰ صحیح ہے ؟ اس سوال کا مقصد ظاہر ہے کہ مشرکین پر اتمام حجت ہوگا کہ جن کو وہ شریک و شفیع سمجھ کر زندگی بھرپوجتے رہے ان کو نہ تو ان کی اس عبادت کی خبر ہے نہ انہوں نے اس کا ان کو حکم دیا اور نہ وہ ایک لمحہ کے لئے یہی گوارا کرنے کے لئے تیار ہیں کہ کوئی ان کو پروردگارِ عالم کا شریک بنا کر ان کی عبادت کرے۔