Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 41

  1. قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ﴿41﴾

    1. قَالُوْاوہ کہیں گے
    2. سُبْحٰنَكَتو پاک ہے
    3. اَنْتَتو
    4. وَلِيُّنَاہمارا کارساز
    5. مِنْ دُوْنِهِمْ ۚان کے سوائے (نہ کہ وہ)
    6. بَلْبلکہ
    7. كَانُوْا يَعْبُدُوْنَوہ پرستش کرتے تھے
    8. الْجِنَّ ۚجن (جمع)
    9. اَكْثَرُهُمْان میں سے اکثر
    10. بِهِمْان پر
    11. مُّؤْمِنُوْنَاعتقاد رکھتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے۔ ان کے بالمقابل تو ہمارا کارساز ہے ! بلکہ یہ جنوں کی پرستش کرتے رہے ہیں، ان کی اکثریت انہی پر ایمان رکھتی تھی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 41 فرشتے اس سوال کو فوراً یہ جواب دیں گے کہ سبحنک تو اس سے پاک اور ارفع ہے کہ تیرا شریک و سبہیم ہو ! فرشتوں کے اس جواب سے ایک حقیقت تو یہ واضح ہوئی کہ شرک ایک ایسی گھنائونی چیز ہے کہ اس کا ذکر سنتے ہی وہی اس سے اپنی نفرت کا اظہار کریں گے اور اللہ جل شانہ کو اس سے ارفع قرار دیں گے کہ کوئی اس کا شریک وسہیم ہو۔ دوسری یہ بات واضح ہوئی کہ وہ اپنے اوپر اس کو ایک سنگین تہمت خیال کریں گے کہ کچھ ظالموں نے ان کو شرک کی گندگی میں ملوث کرنے کی کوشش کی۔ تیسری یہ بات نکلی کہ جن احمقوں نے ایسا کیا ہے اس کی ذمہ داری تمام تر انہی پر ہے۔ فرشتے اس سے بری ہیں کہ وہ کسی کو اپنی عبادت کا حکم دیں۔ ’ انت ولینا من دونھم ‘ یہ فرشتوں کا اپنے رب سے استغاثہ ہوگا کہ ان ظالموں کے مقابل میں، جنہوں نے ہمیں اس جرم میں ملوث کرنے کی کوشش کی، تو ہمارا یاورد ناصر اور مولیٰ و مرجع ہے۔ ہم ان سے بری ہیں تو ہمیں ان کی تہمت سے بری فرما۔ من دونھم یہاں مقابل کے مفہوم میں ہے۔ ’ بل کانو ایعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون۔ یعنی انکا یہ زھم تو بالکل باطلی ہے کہ یہ ہماری پرستش کرتے رہے ہیں البتہ یہ امر واقعی ہے کہ یہ لوگ جنوں کی پرستش کرتے رہے ہیں اس لئے کہ ان کی اکثریت انہی پر ایمان رکھنے والی تھی۔ فرشتوں کا یہ جواب بالکل حقیقت کے مطابق ہے۔ اس لئے کہ فرشتوں کے نام سے انہوں نے جو بت بنائے۔ مثلالات، منات اور عزی وغیرہ۔ یہ تو محض ان کے اپنے فرض کیے ہوئے نام تھے جن کا کوئی مسمی موجود نہیں تھا۔ البتہ اپنے کاہنوں کے توسط سے انہوں نے جنوں سے رابطہ قائم کیا تھا اور چونکہ ان کو وہ علم غیب کا ذریعہ سمجھتے تھے اس وجہ سے ان کے لئے چڑھا وے اور قربانیاں بھی پیش کرتے اور ان کے جے بھی پکارتے۔ اکثر ھم بھم مومنون یعنی یہ ان پر اس حیثیت سے ایمان رکھتے رہے ہیں کہ وہ غیب کی خبروں کے لانے والے اور بذات خود نافع و ضار ہیں۔