Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 43

  1. وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ﴿43﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. تُتْلٰىپڑھی جاتی ہیں
    3. عَلَيْهِمْان پر
    4. اٰيٰتُنَاہماری آیات
    5. بَيِّنٰتٍواضح
    6. قَالُوْاوہ کہتے ہیں
    7. مَا ھٰذَآنہیں ہے یہ
    8. اِلَّامگر۔ صرف
    9. رَجُلٌایک آدمی
    10. يُّرِيْدُوہ چاہتا ہے
    11. اَنْ يَّصُدَّكُمْکہ روکے تمہیں
    12. عَمَّااس سے جس
    13. كَانَ يَعْبُدُپرستش کرتے تھے
    14. اٰبَآؤُكُمْ ۚتمہارے باپ دادا
    15. وَقَالُوْااور وہ کہتے ہیں
    16. مَا ھٰذَآنہیں یہ
    17. اِلَّآمگر
    18. اِفْكٌ مُّفْتَرًى ۭجھوٹ گھڑا ہوا
    19. وَقَالَاور کہا
    20. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاجن لوگوں نے کفر کیا ( کافر)
    21. لِلْحَقِّحق کے بارے میں
    22. لَمَّا جَآءَهُمْ ۙجب وہ آیا ان کے پاس
    23. اِنْ ھٰذَآیہ نہیں
    24. اِلَّامگر
    25. سِحْرٌ مُّبِيْنٌجادو کھلا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ان کو ہماری روشن آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ تو محض ایک شخص ہے جو چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں سے روک دے جن کو تمہارے باپ دادا پوجتے آئے۔ اور انہوں نے کہا کہ یہ تو بس ایک من گھڑت جھوٹ ہے۔ اور ان کافروں نے حق کی بابت، جب کہ وہ ان کے پاس آگیا، کہا کہ یہ تو بس کھلا ہوا جاد و ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
…آیت (43) یہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور مکابرت پر اظہار تعجب اور ان کی محرومی و بدبختی پر اطہار افسوس ہے کہ یہ آفتاب پر خاک ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب ان کو ہماری نہایت روشن، محکم اور عقل و دل کو منور کردینے والی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ اپنے عوام کو ان کے خلاف یہ کہہ کر بھڑکاتے ہیں کہ یہ شخص تمہارے ان معبودوں سے تم کو برگشتہ کرنا چاہتا ہے جن کو تمہارے بزرگ اسلاف برابر پوجتے آئے۔ حقائق کے خلاف عوام کو مشتعل کرنے کے لئے اسلاف کا حوالہ ہمیشہ سے مفسدین کے ہاتھ میں ایک کارگر حربہ رہا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو کہ یہ واحد دلیل ہے جو ضلالت کے علمبردار لیڈروں نے اپنی ضلالتوں کے حق میں پیش کی ہے۔ ’ ما ھذا ال ارضل ‘ ک تنکیر میں بھی ایک زہر چھپا ہوا ہے۔ یعنی وہ اپنے عوام کو پیغمبر ﷺ کے متعلق یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ شخص جو اپنے آپ کو ایک فرستادہ الٰہی کی حیثیت سے تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے تم اس کے اس چکمے میں نہ آئو۔ یہ محض ایک عام قسم کا آدمی ہے جس نے محض تمہارے دین آبادئی سے تم کو منحرف کرنے کے لئے یہ روپ دھارا ہے کہ اس کو خدا نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ ’ وقال اما ھذا الا نک معتری۔ یہ قرآن کے خلاف ان کے پروپیگنڈے کا حوال ہے کہ وہ اپنے عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ اس قرآن کے متعلق یہ دعویٰ جو کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اتارا ہے، یہ دعویٰ بالکل جھوٹ ہے جو محض تمہیں مرعوب کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک خود تراشیدہ کتاب ہے جو بالکل جھوٹ موٹ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی جا رہی ہے۔ ’ وقال الذین کفرو للحق لما جاء ھم ان ھذا الا سحر مبین۔ یہ ان لوگوں کی اس ژاژ خائی پر اظہار حیرت یہ ہے یہ لوگ حق کی مخالفت میں اس وقت یہ سخن سازیاں کر رہے ہیں جب حق ان کے سامنے ظاہرہوچکا ہے۔ اگر سورج افق سے غائب ہو اور کوئی ہٹ دھرم اس کے متعلق کوئی سوال اٹھائے تو یہ ہٹ دھرمی چنداں حیرت انگیز نہیں، لیکن جب سورج نصفب النہار پر چمک رہا ہو اور کوئی اس کو جادو قرار دے تو یہ محض خردباختگی ہے۔ ’ للحق میں حق سے مراد قرآن ہے اور ل یہاں فی کے مفہوم میں ہے۔ اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے۔ اس کتاب میں اس کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ ’ ان ھذا الاسحر مبین ‘۔ یہ ان کے قول کی تفصیل ہے کہ اس قرآن کو وہ جادو قرار دیتے ہیں۔ قرآن کو جادو قرار دینے کی وضاحت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں کہ اس کی معجزانہ فصاحت و بلاغت اور تاثیر و تسخیر کے قائل تو اس کے کٹر سے کٹر مخالفین بھی تھے لیکن وہ اپنے عوام کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ یہ تاثیر و تسخیر اس کے پیش کرنے والے کی جادوبیانی کا کرشمہ ہے، اس کو خدا اور فرشتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔