تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 42
فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ﴿42﴾
- فَالْيَوْمَسو آج
- لَا يَمْلِكُاختیار نہیں رکھتا
- بَعْضُكُمْتم میں سے بعض (ایک)
- لِبَعْضٍبعض (دوسرے) کے لیے
- نَّفْعًانفع کا
- وَّلَا ضَرًّا ۭاور نہ نقصان کا
- وَنَقُوْلُاور ہم کہیں گے
- لِلَّذِيْنَان لوگوں کو
- ظَلَمُوْاجنہوں نے ظلم کیا
- ذُوْقُوْاتم چکھو
- عَذَابَ النَّارِآگ (جہنم) کا عذاب
- الَّتِيْوہ جس
- كُنْتُمْتم تھے
- بِهَااس کو
- تُكَذِّبُوْنَتم جھٹلاتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس آج تم میں سے کوئی ایک دوسرے کو نہ تو کوئی نفع پہنچا سکتے گا اور نہ نقصان۔ اور ہم ان ظالموں سے کہیں گے کہ اب اس دوزخ کے عذاب کا مزا چکھو جس کو جھٹلاتے رہے ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولا ضرا۔ ونقول للذین ظلموا ذوق عذاب النار التی کتن بھا تکذبون (42)
یعنی فرشتوں کے اس جواب کے بعد ان کے پجاریوں سے کہہ دی جائے گا کہ تمہارا سارا اعتماد جن فرشتوں پر تھا ان کی گواہی تم نے علی رودس الشہاد سن لی۔ پس آج کے دن کوئی بھی ایک دوسرے کے کام آنے والا نہ بن سکے گا۔ نہ وہ تمہیں کوئی نفع یا ضرر پہنچا سکتے اور نہ تم ان کو۔
’ ونقول للذین ظلموا ذوقا……میں الذین ظلموا۔ سے مشرکین مراد ہیں۔ جنہوں نے بےدلل خدا کے شریک بنا کر ظلم عظیم کا ارتکاب کیا اور جب پیغمبر نے ان کو خدا کے عذاب سے ڈایا تو انہوں نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کی تکذیب کی۔ فرمایا کہ اس آخرت اتمامِ حجت کے بعد ہم ان سے کہیں گے کہ اب دوزخ کا مزہ چکھو جس کو جھٹلاتے رہے ہو۔