Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 50

  1. قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ﴿50﴾

    1. قُلْفرمادیں
    2. اِنْاگر
    3. ضَلَلْتُمیں بہکا ہوں
    4. فَاِنَّمَآتو اس کے سوا نہیں
    5. اَضِلُّمیں بہکا ہوں
    6. عَلٰي نَفْسِيْ ۚاپنی جان پر (اپنے نقصان کو)
    7. وَاِنِاور اگر
    8. اهْتَدَيْتُمیں ہدایت پر ہوں
    9. فَبِمَاتو اس کی بدولت
    10. يُوْحِيْٓوہ وحی کرتا ہے
    11. اِلَيَّمیری طرف
    12. رَبِّيْ ۭمیرا رب
    13. اِنَّهٗبیشک وہ
    14. سَمِيْعٌسننے والا
    15. قَرِيْبٌقریب
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو اگر میں گمراہی پر ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھی پر ہے اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ اس وحی کی بدولت ہے جو میرا رب میری طرف بھیج رہا ہے۔ وہ سننے والا اور نہایت قریب ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل ان ضلک فانما اضل علی نفسی وان اھتدیت فبما یوحی الی ربی انہ سمیع قریب (50) اب یہ ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی کہ ان سے کہو دو کہ اگر میں گمراہی ہوں، جیسا کہ تم سمجھتے ہو تو اس گمراہی کا خمیازہ بہرحال مجھ ہی کو بھگتنا ہے، تم اس کے وبال سے محفوظ ہو اس لئے کہ تم اس میں میرا ساتھ نہیں دے رہے ہو۔ لیکن اس مسئہ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اس پر بھی اچھی طرح غور کرلو۔ وہ یہ کہ اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ ہدایت اس وحی کی بدولت مجھے حاصل ہوئی ہے جو میرا پروردگار مجھ پر نازل فرما رہا ہے۔ اس صورت میں میری تکذیب تمہارے لئے کوئی سہل چیز نہیں ہے بلکہ تم وحی الٰہی کے جھٹلانے والے ٹھہرتے ہو اور وحی الٰہی کی تکذیب کرنے والوں کو جو انجام ہونا چاہے اور ہوگا وہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے نتائج و عواقب کو بہت دور تک سوچ لو ! ! ’ انہ سمیع قریب ‘۔ یہ تقویض الی اللہ کا کلمہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تم سے زیادہ بحث وجدال بےسود ہے۔ میں یہ آخری بات کہہ کے تمہارا معاملہ اپنے رب کے حوالے کرتا ہوں۔ تم نہ تو میری بات سننے کے لئے تیار ہو، نہ قریب آنے کے روادار ہو لیکن میرا رب میری باتیں سننے والا بھی ہے اور قریب بھی ہے۔ تو اب تمہارے پیچھے سر کھپانے کے بجائے اسی سے عرض معروض کروں گا جو سنتا اور قبول فرماتا ہے۔