Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 51

  1. وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ﴿51﴾

    1. وَلَوْ تَرٰٓىاے کاش تم دیکھو
    2. اِذْجب
    3. فَزِعُوْاوہ گھبرائیں گے
    4. فَلَا فَوْتَاور نہ بچ سکیں گے
    5. وَاُخِذُوْااور پکڑ لیے جائیں گے
    6. مِنْسے
    7. مَّكَانٍ قَرِيْبٍقریب جگہ (پاس)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر تم دیکھ پاتے جب ان پر گبھراہٹ طاری ہوگی۔ پس وہ کہیں بھاگ نہ سکیں گے اور پاس ہی سے دھر لئے جائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولو تری اذ فزعوا فملا فوت واخذوا من مکان قریب (51) یہاں جوابِ شرط مخدوف ہے۔ اس کی مثال آیت 31 میں گزر چکی ہے۔ اس طرح جوابِ شرط کا محذوف ہونا اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ جواب تعبیر وتصویر سے مافوق ہے۔ فرمایا کہ آج تو ان کے استکبار کا یہ حال ہے کہ پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دے رہے ہیں لیکن اگر کہیں تم ان کے اس وقت کو دیکھ پاتے جب کہ وہ خدا کی اس گرفت میں آجائیں جس کو آج جھٹلا رہے ہیں تب تم کو ان کی بےبسی کا کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح یہ ناک رگڑتے اور حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں۔ فرمایا کہ جب یہ خدا کے عذاب کی پکڑ میں آئیں گے تو گھبرا کر بھاگنے اور بچنے کی کوشش کریں گے لیکن خدا کی گرفت سے کون بچ سکا ہے جو یہ اس سے بھاگ سکیں گے۔ ’ واخذوا من مکان قریب ‘ یعنی یہ بھاگنا چاہیں گے لیکن پاس ہی سے دھر لئے جائیں گے۔ ان کے پائوں کے نیچے یا ان کے سر کے اوپر سے اس طرح خدا کا عذاب ان کو اپنے قابو میں کرے گا کہ کسی طرف بھی ان کو راہ فرار سمجھائی نہیں دے گی۔