Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 52

  1. وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ﴿52﴾

    1. وَّقَالُوْٓااور وہ کہیں گے
    2. اٰمَنَّاہم ایمان لائے
    3. بِهٖ ۚاس پر
    4. وَاَنّٰىاور کہاں
    5. لَهُمُان کے لیے
    6. التَّنَاوُشُپکڑنا (ہاتھ آنا)
    7. مِنْسے
    8. مَّكَانٍۢجگہ
    9. بَعِيْدٍدور (دار الجزا)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کہیں گے ہم اس پر ایمان لائے۔ اور اتنی دور سے ان کے لے اس کا پانا کہاں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 52 یعنی اس وقت ان کا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا اور وہ پکار اٹھیں گے کہ اب ہم اس قرآن پر ایمان لائے۔ ضمیر کا مرجع یہاں قرآن ہے جس کا ذکر اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ قرآن کو پیش کرنے والے یعنی آنحضرت ﷺ از خود اس میں شامل ہیں۔ ’ وانی لھم الستنا وش من مکان بعید۔ ‘ یعنی ایمان کا محل تو یہ دنیا ہے اور وہ بھی عذاب الٰہی کے ظہور سے پہلے تو جب تو عذاب الٰہی ظاہر ہوجائے گا اس وقت تو یہ ایمان کی منزل سے اتنی دور نکل جائیں گے کہ وہاں سے ان کے لئے اس کے پاسکنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جائے گا۔ عذابِ الٰہی کی گرفت میں آجانے کے بعد تو فرعون جیسا سرکش بھی پکار اٹھا تھا کہ میں موسیٰ و ہارون کے رب پر ایمان لایا ! لیکن اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جواب ملا کہ التئن قد عصیت من قبل ‘ (اب ایمان لائے ! حالانکہ جب ایمان لانے کا وقت تھا تو تم نے نافرمانی کی)۔ ’ تناوش ‘ کے معنی پا لینے کے ہیں اور ’ انی الھم ‘ کا مفہوم یہ ہے کہ بھلا اس وقت کے پانے کا کیا امکان ہوگا ! دست کوتاہ است و خرما برنخیل