تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 53
وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ﴿53﴾
- وَّقَدْ كَفَرُوْااور تحقیق انہوں نے کفر کیا
- بِهٖاس سے
- مِنْ قَبْلُ ۚاس سے قبل
- وَيَقْذِفُوْنَاور وہ پھینکتے ہیں
- بِالْغَيْبِبن دیکھے
- مِنْسے
- مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍدور جگہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس سے پہلے انہوں نے اس کا انکار کیا اور دور سے اٹکلی کے تیز تکتے چلاتے رہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 53
’ قذف بالحجارۃ ‘ کے معنی ہیں پتھر پھینکا۔ ’ قذف بالقول ‘ تکلم بلا تدبر ولا تامل۔ یعنی بےسوچے سمجھے بات پھینک ماری۔ یہیں سے یہ ’ رجما بالغیب ‘ یعنی اتکل پچو بات کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب دیکھنے کے بعد وہ ایمان کا اقرار کریں گے حالانکہ اس سے پہلے وہ دور سے بیٹھے ہوئے اٹکل کے تیر تکے چلاتے رہے تھے کہ یہ کتاب من گھڑت ہے، اس کا پیش کرنے والا (العیاذ باللہ) برخود غلط ہے، عذاب کی دھمکی محض دھونس ہے، قیامت کا ڈراوا محض خلل دماغ کا نتیجہ ہے اور اگر قیامت کا کوئی مرحلہ پیش آیا تو ہمارے شرکاء کے طفیل ہمارا تفوق وہاں بھی قائم رہیگا۔ الغرض عقل کو بالائے طاق رکھ کے قرآن اور پیغمبر ﷺ کی تکذیب کے جنون میں جو کچھ زبان پر آیا بکتے رہے لیکن جب حقیقت سامنے آجائے گی تو اس کا اقرار کریں گے لیکن یہ اقرار بعد از وقت اور بالکل سود ہوگا۔