تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 54
وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ع﴿54﴾
- وَحِيْلَاور آڑ کردی گئی
- بَيْنَهُمْان کے درمیان
- وَبَيْنَاور درمیان
- مَا يَشْتَهُوْنَجو وہ چاہتے تھے
- كَمَاجیسے
- فُعِلَکیا گیا
- بِاَشْيَاعِهِمْان کے ہم جنسوں کے ساتھ
- مِّنْ قَبْلُ ۭاس سے قبل
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- كَانُوْاوہ تھے
- فِيْمیں
- شَكٍّشک
- مُّرِيْبٍتردد میں ڈالنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان کے اور ان کی چاہتوں کے درمیان دیوار حائل ہوجائے گی جس طرح اس سے پہلے ان کے ہم مشیریوں کے ساتھ معاملہ ہوا۔ بیشک وہ بھی الجھن میں ڈالنے ولاے شک میں پڑے رہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 54
یعنی جب فیصلہ کن عذاب نمودار ہوجائے گا تو ان کے اور ان کی تمام چاہتوں کے مابین دیوار حائل ہوجائے گی۔ وہ ایمان لانا چاہیں گے لیکن ان کا یہ چاہنا بےسود ہوگا۔ وہ مہلت کی درخواست کریں گے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوگی۔ وہ اپنے شریکوں کو پکاریں گے لیکن ان کی طرف سے بھی ان کی کوئی فریاد رسی نہیں ہوگی۔ غرض امید کے تمام دروازے ان پر بند ہوجائیں گے اور ایک ابدی مایوسی سے ان کو سابقہ پیش آئے گا۔
’ کما فعل باشیاعھم ‘ یعنی ان کو بھی اسی صورت حال سے دو چار ہونا پڑے گا جس سے ان کے پشرو ہم مشربوں کو دو چار ہونا پڑا۔ یہ اشارہ عاد، ثمود، اہل مدین اور فرعون وغیرہ کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں تفصیل کے ساتھ قرآن میں سناٹی جا چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کو ایسی چیزیں نہیں ہے جو اس سے پہلے پیش نہ آچکی ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان تمام قوموں کو اسی افتاد سے سابقہ پیش آیا جنہوں نے ان کی طرح اپنے رسولوں کے انداز کی تکذیب کی۔ اگر یہ ان کے حالات سے سبق نہیں لیتے تو لازماً انہی کے انجام سے دو چار ہوں گے۔
انھم کانوا فی شک مریب ‘۔ یعنی وہ بھی انہی کی طرح الجھن میں ڈلانے والے شک میں پڑے رہے یہاں تک کہ بالآخر فیصلہ کن گھڑی سر پر آہی گئی۔ شک مریب کی نوعیت پر ھود 110062 میں ہم گفتگو کرچکے ہیںَ
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے، ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد اللہ علی ذلک۔
رحمان آباد : 3 جنوری، 1975 ء۔ جمعہ 9 بجے دن۔