تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 6
وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ﴿6﴾
- وَيَرَىاور وہ دیکھتے ہیں
- الَّذِيْنَوہ لوگ جنہیں
- اُوْتُوادیا گیا
- الْعِلْمَعلم
- الَّذِيْٓوہ جو کہ
- اُنْزِلَنازل کیا گیا
- اِلَيْكَتمہاری طرف
- مِنْ رَّبِّكَتمہارے رب کی طرف سے
- هُوَ الْحَقَّ ۙوہ حق
- وَيَهْدِيْٓاور وہ رہنمائی کرتا ہے
- اِلٰىطرف
- صِرَاطِراستہ
- الْعَزِيْزِغالب
- الْحَمِيْدِسزاوار تعریف
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جن کو علم عطا ہوا ہے وہ، اس چیز کو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے، سجھتے ہیں کہ یہی حق ہے اور وہ خدائے عزیز حمید کے راستہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ویرہ الذین اوتو العلم الذی انزل الیک من ربک ھوالحق ویھدی الی صراط العزیز الحمید (6)
یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جنکو علم حقیقی کی روشنی عطا ہوئی۔ عام اس سے کہ وہ ان اہل کتاب میں سے ہوں جنہوں نے اپنے نبیوں اور صحیفوں کے علم کو محفوظ رکھا یا ان سلیم الفطر لوگوں میں س ہوں جن کے قلوب ان کی سلامت روی کے باعظ قرآن کی روشنی میں متیز ہوئے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اس چیز کو ابالکل حق سمجھتے ہیں جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے۔ یعنی تم جس توحید کی دعوت دے رہے ہو اور جس قیامت سے لوگوں کو ڈرا رہے ہو، وہ اس کی تائید کر رہے ہیں کہ یہی حق ہے اور جو لوگ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر بڑے طنطنہ کے ساتھ توحید اور قیامت کی تکذیب کر رہے ہیں وہ یکسر باطل پر ہیں۔ یہ بات یہاں نبی ﷺ کی تسلی کے لئے فرمائی گئی ہے کہ اگر بےفکرے اور لا ابالی لوگ تمہاری مخالفت کر رہے ہیں تو اس کی پروا نہ کرو، تمہارے اطمینان کے لئے یہ چیز بس کافی ہے کہ جن کے اندر علم و معرفت کی روشنی ہے وہ تمہارے موید ہے۔ آدمی کو پروا عاقلوں کی ہونی چاہے نہ کہ احمقوں اور لاخیروں کی۔
’ ویھدی الی صراط العزیز الحمید ‘ یعنی یہ اہل علم اس حقیقت کو برملا تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کتاب لاریب کدائے عزیز و حمد کے راستہ کی طرف راہنمائی کرنے والی ہیَ یعنی دوسروں نے جو دین گھڑ رکھے ہیں وہ تو تمام تر ضلالت اور ہلاکت کے کھڈ میں گرانے والے ہیں البتہ یہ کتاب خدا کی راہ دکھانے والی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی دو صفتیں مذکورہوئی ہیں“ ایک ’ عزیز ’ دوسری حمید۔ عزیز سے اس کی عزت وقدرت کا اظہار ہو رہا ہے اور حمید سے دنیا اور آکرت دونوں میں اس کا سزوار حمد ہونا اور یہ دونوں صفتیں توحید اور قیامت کے متلزم ہیں۔ جیسا کہ اوپر کے مباحث سے واضح ہوچکا ہے۔
اس آیت سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ حقیقی علم، قرآن کی اصطلاح میں، صرف خدا کی معرفت اور آخرت کا علم ہے۔ اگر یہ علم کسی کے اندر نہ ہو تو دوسرے کتنے ہی علوم وہ پڑھ ڈالے اس کا یہ سارا علم اس کے لیے بار اور دوسروں کے لئے خطرہ ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے علماء صرف انہی کو کہا ہے جن کو خدا اور آخرت کے معرفت حاصل ہو۔
انما یحشی اللہمن عبادہ العلمواء ان اللہ عزیز غفور (فاطر : 28)
اللہ سے اس کے بندوں میں سے بس وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں اور بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا، بخشنے والا ہے۔