تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 8
اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ﴿8﴾
- اَفْتَرٰىاس نے باندھا
- عَلَي اللّٰهِاللہ پر
- كَذِبًاجھوٹ
- اَمْیا
- بِهٖاسے
- جِنَّةٌ ۭجنون
- بَلِبلکہ
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- لَا يُؤْمِنُوْنَایمان نہیں رکھتے
- بِالْاٰخِرَةِآخرت پر
- فِي الْعَذَابِعذاب میں
- وَالضَّلٰلِاور گمراہی
- الْبَعِيْدِدور
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اس کو کسی قسم کا جنون ہے بلکہ جو لوگ آخرت میں ایمان نہیں رکھتے وہی عذاب اور نہایت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
افتری علی اللہ کذبا امر بہ جنتہ بل الذین لا یومنون بالاخرہ فی العذاب والضلل البعید (8)
یہ ان کے اسی استہزا کی مزید تفصیل اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا برمحل جواب ہے۔
’ افتری علی اللہ کذبا امہ بہ جنۃ ‘ یعنی وہ کہتے ہیں کہ اس شخص کا معاملہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو یہ مانا جائے کہ اس نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے کہ خدا نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس کی طرف سے کہہ رہا ہے یا پھر یہ مانا جائے کہ یہ بھی جنون کی ایک قسم ہے جس میں یہ شخص مبتلا ہوگیا ہے ! مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بیک وقت اس شخص میں موجود ہیں۔ یہ مفتری بھی ہے اور مجنون بھی۔
’ بل الذین لایومنون بالاخرۃ الایۃ۔ ان متمردین کے اس استہزاء کا جواب قرآن نے فوراً دیا اور دیکھیے کتنا باوقار اور موثر جواب دیا ہے۔
فرمایا کہ ان لال بجھکڑوں نے تشخیص بہت غلط کی۔ خرابی نہ داعی میں ہے نہ دعوت میں بلکہ ساری خرابی خود ان لوگوں کے اندر ہے جو آخرت پر ایمان نہیں لا رہے ہیں۔ وہ عذاب اور نہایت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ یعنی ایک گمراہی تو وہ ہوتی ہے جس سے پلٹ کر آنے اور اصلاح کا امکان باقی رہتا ہے، ہزار خرابی کے بعد سہی۔ لیکن جو آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوا اس کی بازگشت کا پھر کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا۔ اس کے لئے امید کے تمام دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہوجاتے ہں۔ ان لوگوں کے اس انجام کو متبقل کے صیغہ سے بیان کرنے کے بجائے حال کے اسلوب میں بیان فرمایا اس لئے کہ ان کا یہ انجام ان کے رویہ کے اندر ہی مضمر ہے۔ گویا آج ہی وہ اپنے رعونت کے سبب سے اس سے دو چار ہیں۔