تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 35. Faatir · Ayah 44
اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا﴿44﴾
- اَوَکیا
- لَمْ يَسِيْرُوْاوہ چلے پھرے نہیں
- فِي الْاَرْضِزمین (دنیا) میں
- فَيَنْظُرُوْاسو وہ دیکھتے
- كَيْفَکیسا
- كَانَہوا
- عَاقِبَةُعاقبت (انجام)
- الَّذِيْنَان لوگوں کا جو
- مِنْ قَبْلِهِمْان سے پہلے
- وَكَانُوْٓااور وہ تھے
- اَشَدَّبہت زیادہ
- مِنْهُمْان سے
- قُوَّةً ۭقوت میں
- وَمَااور نہیں
- كَانَہے
- اللّٰهُاللہ
- لِيُعْجِزَهٗکہ اسے عاجز کردے
- مِنْ شَيْءٍکوئی شے
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَلَااور نہ
- فِي الْاَرْضِ ۭزمین میں
- اِنَّهٗبیشک وہ
- كَانَہے
- عَلِيْمًاعلم والا
- قَدِيْرًابڑی قدرت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا دیکھتے کہ کیسا ہوچکا ہے انجام ان لوگوں کو جوان سے پہلے گزرے ہیں حالانکہ وہ قوت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے۔ اور آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے کہ وہ اللہ کے قابو سے باہر نکل سکے۔ وہ علم والا اور قدرت رکھنے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 44
اللہ کی جو سنت پچھلی قوموں کے معاملے میں ظاہر ہوئی اور جس کے آثار و خود ملک عرب میں موجود تھے یہ ان کی طرف توجہ دلائی کہ کیا ان لوگوں نے اپنے ملک کی سیاحت کبھی اس مقصد سے نہیں کی کہ اپنی ان پیشرو قوموں کے آثارو نشانات دیکھتے جو قوت و شوکت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن رسولوں کی تکذیب کی پاداش میں ان کا انجام نہایت عبرت انگیر ہو !
’ اولم یسیروا فی الارض فینظروا۔ ‘ کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس کی سیاحت تو انہوں نے بہت کی ہے۔ اپنے تجارتی سفروں میں برابر معذب قوموں کی بستیوں پر سے گزرتے رہے ہیں لیکن کبھی خاص اس مقصد سے انہوں نے ان کے آثار پر نظر نہیں ڈالی کہ وہ اس کیفرِ کردار کو کیوں پہنچیں ؟ حالانکہ دیکھنے اور فائدہ اٹھانے کی اصل چیز یہی ہے۔ اب بھی موقع باقی ہے کہ اس نگاہ سے ان کے آثار دیکھیں اور ان کے انجام سے سبق حاصل کریں۔ قوت و شوکت میں قریش انکے پاسنگ نہیں ہیں، لیکن خدا نے جب ان کو پکڑا تو وہ اس کی گرفت سے باہرنہ نکل سکیں۔ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو خدا کی گرفت سے باہر نکل سکے۔ خدا کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، کوئی چیز اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہے۔ ساتھ ہی وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، کوئی کام اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو اپنے علم اور اپنی قدرت دونوں میں کامل ہے کوئی اس بھاگ کے کہاں جاسکتا ہے۔