Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 35. Faatir · Ayah 45

  1. وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ع﴿45﴾

    1. وَلَوْاور اگر
    2. يُؤَاخِذُ اللّٰهُاللہ پکڑ کرے
    3. النَّاسَلوگ
    4. بِمَا كَسَبُوْاان کے اعمال کے سبب
    5. مَا تَرَكَوہ نہ چھوڑے
    6. عَلٰيپر
    7. ظَهْرِهَااس کی پشت
    8. مِنْ دَآبَّةٍکوئی چلنے پھرنے والا
    9. وَّلٰكِنْاور لیکن
    10. يُّؤَخِّرُهُمْوہ انہیں ڈھیل دیتا ہے
    11. اِلٰٓىتک
    12. اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚایک مدت معین
    13. فَاِذَاپھر جب
    14. جَآءَآجائے گی
    15. اَجَلُهُمْان کی اجل
    16. فَاِنَّتو بیشک
    17. اللّٰهَاللہ
    18. كَانَہے
    19. بِعِبَادِهٖاپنے بندوں کو
    20. بَصِيْرًادیکھنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے اعمال کی پاداش میں فوراً پکڑتا تو زمین کی پشت پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو ایک معین مدت تک مہلت دیتا ہے۔ پس جب ان کی مدت پوری ہوجائے گی تو اللہ اپنے بندوں کو خود دیکھنے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 45 یہ اسی سنت الٰہی کے ایک دوسرے پہلو کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ان لوگوں کی پکڑ تو لازماً ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ مجرمین کو ان کے اعمال کی پاداش میں فوراً نہیں پکڑا کرتا۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہے تو کوئی اس کا ہاتھ تو نہیں پکڑ سکتا، وہ چشم زون میں روئے زمین سے مہر زندہ کو ختم کردے، لیکن وہ حلیم و غفور ہے اور اس وہج سے ایک معین مدت تک لوگوں کو مہلت دیتا ہے تاکہ جس کو توفیق ہو وہ توبہ اور اصلاح کرلے اور جو اپنی ضد ہی پر مرنا چاہے اس پر اللہ کی حجت پوری ہوجائے۔ جب ان کی معین مدت مہلت پوری ہوجائے گی تو پھر اللہ ان کو دیکھے گا کہ وہ کس پاداش کے مستحق ہیں۔ ’ بما کسبوا ‘ کے بعد ’ عنی عجل ‘ یا اس کے ہم معنی الفاط مخذوف ہیں۔ ’ ولکن یوخرھم ‘ کے الفاظ سے اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔ بتوفیق ایزدی ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد اللہ علی ذلک۔ رحمان آباد، 4 فروری، 1975 ء۔