تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 36. Yaseen · Ayah 40
لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ﴿40﴾
- لَانہ
- الشَّمْسُسورج
- يَنْۢبَغِيْلائق (مجال)
- لَهَآاس کے لیے
- اَنْکہ
- تُدْرِكَجاپکڑے وہ
- الْقَمَرَچاند
- وَلَااور نہ
- الَّيْلُرات
- سَابِقُپہلے آسکے
- النَّهَارِ ۭدن
- وَكُلٌّاور سب
- فِيْ فَلَكٍدائرہ میں
- يَّسْبَحُوْنَتیرے (گردش کرتے) ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت کرسکتی۔ ہر ایک اپنے خاص دائرے میں گردش کرتا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 40
یعنی اس کائنات کا سارا نظام اس کے خالق نے اس طرح اپنے قابو میں کررکھا ہے نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ اپنے مدار سے نکل کر چاند کے مدار میں جا گھسے اور اس کو پکڑ لے او نہ رات کی مجال ہے کہ ایک سکینڈ کے لئے بھی دن پر سبقت کر جائے بلکہ ان میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں گردش کرتی پڑتی ہے۔ یہ اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز کی باگ ایک ہی خدائے قدیر وعلیم کے ہاتھ میں ہے اور دیہی تنہا ہر چیز کا مالک و مختار ہے۔ اگر اس کے سوا کسی اور کا بھی اس میں کوئی دخل ہوتا تو یہ دنیا اپنے اضداد کے تصادم میں تباہ ہوجاتی ہے۔ خاص طور پر یہ حقیقت تو بالکل نمایاں ہے کہ جو چیزیں جتنی ہی زیادہ نمایاں ہیں اور جن کے نمایاں ہونے ہی کو بنا پر قوموں نے ان کو معبود مان کر ان کی پرستش کی وہ اپنے وجود ہی سے یہ اعلان کر رہی ہیں کہ وہ سب سے زیادہ مسخر و محکوم ہیں، مجال نہیں ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار سے ایک اونچ بھی ادھر یا ادھر سرک سکیں۔