تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 36. Yaseen · Ayah 47
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿47﴾
- وَاِذَااور جب
- قِيْلَکہا جائے
- لَهُمْان سے
- اَنْفِقُوْاخرچ کرو تم
- مِمَّااس سے جو
- رَزَقَكُمُتمہیں دیا
- اللّٰهُ ۙاللہ
- قَالَکہتے ہیں
- الَّذِيْنَ كَفَرُوْاجن لوگوں نے کفر کیا (کافر)
- لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓاان لوگوں سے جو ایمان لائے (مومن)
- اَنُطْعِمُکیا ہم کھلائیں
- مَنْ(اس کو) جسے
- لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُاگر اللہ چاہتا
- اَطْعَمَهٗٓ ڰاسے کھانے کو دیتا
- اِنْنہیں
- اَنْتُمْتم
- اِلَّامگر۔ صرف
- فِيْمیں
- ضَلٰلٍگمراہی
- مُّبِيْنٍکھلی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ تم کو رزق بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ کیا ہم ان لوگوں کو کھلائیں جن کو خدا چاہتا تو کھلاتا ! یہ تو تم لوگ ایک صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 47
اوپر والی آیت میں ان کی جس بےحسی اور سنگدلی کی طرف اشارہ ہے یہ اس کی ایک مثال بیان ہوئی ہے کہ جب ان کو شکر کی دعوت دی جاتی ہے، جیسا کہ اوپر آیات 35 میں ہے۔ ’ لیاکلوا من ثمرہ وما عملتہ ایدیھم افلا یشکرون ‘ تو یہ رعونت کے ساتھ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ چناچہ جب ان سے کہا جتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق و فضل تم کو بخشا ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور ان غریبوں کی مدد کرو جو مدد کے محتاج ہیں تو وہ مسلمانوں کو یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ تمہاری صریح گمراہی ہے کہ جن کو اللہ نے محروم رکھنا چاہا ہے ان کو تم کھلانا چاہتے ہو۔ اگر اللہ ان کو بھی ہماری طرح کھلانا پہنانا چاہتا تو آخر اس کے پاس کسی چیز کی کمی تھی لیکن جب اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اس نے ان کے لئے یہی چاہا ہے اور جب اس نے ان کے لئے یہی چاہا ہے تو ہم ان کے اوپر کوئی احسان کرکے خدا کو خوش نہیں کریں گے بلکہ اس کی ناراضگی مول لیں گے !۔ اس فلسفہ جاہلی کا حوالے دے کر اس پر کوئی تبصرہ کیے بغیر اس کو نظرا نداز کردیا ہے۔ اس لئے کہ اس کی قساوت و سفاہیت اس قدر واضح ہے کہ اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں تھی۔ مقصود بس یہ دکھانا ہے کہ جب دل بگڑتے ہیں او عقل الٹی ہے تو آدمی کا حال یہ ہوجاتا ہے !