تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 113
وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ع﴿113﴾
- وَبٰرَكْنَااور ہم نے برکت نازل کی
- عَلَيْهِاس پر۔ اس کو
- وَعَلٰٓياور پر
- اِسْحٰقَ ۭاسحاق
- وَمِنْاور سے ۔ میں
- ذُرِّيَّتِهِمَاان دونوں کی اولاد
- مُحْسِنٌنیکو کار
- وَّظَالِمٌاور ظلم کرنے والا
- لِّنَفْسِهٖاپنی جان پر
- مُبِيْنٌصریح
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے اس پر بھی اور اسحاق پر بھی برکتیں نازل کیں اور ان کی ذریت میں سے خوب کار بھی ہیں اور اپنی جانوں پر کھلے ہوئے ظلم ڈھانے والے بھی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وبارکنا علیہ علی اسحاق ومن ذرتی تھا محسن وظایم لنفسہ مبین (113)
ضمیر مجرور کا مرجع
علیہ کی ضمیر مجور کا مرجع حضرت اسماعیل ہیں۔ جن لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو مرجع قرار دیا ہے ان کی رائے بالکل غلط ہے۔ اگر مرجع حضرت ابراہیم ؑ ہوتے تو اس کے بعد من ذریتھما کی جگہ ومن ذریتہ موزوں رہتا۔ اس لئے کہ حضرت اسحاق حضرت ابراہیم ؑ کے کوئی مدمقابل نہیں بلکہ انہی کی ذات میں سے ہیں۔
حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق کے اخلاف کو ایک یاد دہانی
فرمایا کہ ہم نے اسماعیل اور اسحاق دونوں کو اس دنیا میں برد مند کیا۔ دونوں کی اولاد خود پھولی پھلی۔ ان کی اولاد میں سے کچھ اپنے صالح باپوں کے نقش قدم پر چلنے والے خوب کار اور مخلص مومن ہیں اور کچھ ان کے طریقہ سے بالکل منحرف ہو کر کفر و شرک میں مبتلا ہیں اور اس طرح اپنی جانوں پر کھلا ہوا ظلم ڈھانے والے بن گئے ہیں۔ یہ گویا دونوں کی اولاد … بنی اسماعیل و بنی اسرائیل … کو ایک برمحل یاد دہانی ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ وہ کن پاکیزہ لوگوں کی اولاد ہیں، ان کو کیا طریقہ اختیار کرنا تھا اور وہ کہاں بھٹک رہے ہیں۔
ایک نحوی سوال کا جواب
شروع ہوئی ہے وہ یہاں تک چلی آئی ہے اور یہ نہ معلوم ہوسکا کہ لما کا جاب کیا ہے ؟ اس کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں ہم یہ ذکر کرچکے ہیں کہ بعض اوقات لما اذا اور اس نوع کے دور سے شرطیہ جملوں میں جواب حذف ہوجاتا ہے اور متکلم کا زور کلام اس محذوف کا قائم مقام بن جاتا ہے۔ یہ طریقہ خصوصیت کے ساتھ ان مواقع میں اختیار کیا جاتا ہے جہاں جواب کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ الفاظ اس کی تعبیر سے قاصر ہتے ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال سورة زمر میں بھی آئے گی۔ وسیق الذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زمراً حتی اذا جآء وھا وفتحت ابوابھا وقال لھم خزنتھا سلم علیکم طبتم فادخلوھا خلدین (73) (اور جن لوگوں نے اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اس کے دروازے کھرے جائیں گے اور اس کے پاسبان ان کا سلام کے ساتھ خیر مقدم کریں گے کہ مبارک ہو، اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجائیے اور وہ کہیں گے شکر ہے اس اللہ کا جس نے اپنا وعدہ ہم سے پورا کیا) دیکھ لیجیے اس آیت میں بھی اذا کا جواب محذوف ہے جو خود کلام کے زور سے واضح ہو رہا ہے۔ اسی طرح آیت زیر بحث میں بھی جواب محذوف ہے الفاظ اس کی تعبیر سے قاصر ہیں لیکن وہ خود واضح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب باپ اور بیٹے دونوں نے اپنے رب کی رضا جوئی کے لئے یہ اقدام کر ڈالا تو تصور کرو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کیسی عظیم رحمتوں کے مستحق ٹھہرے ہوں گے !